سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 146 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 146

سیرت المہدی 146 حصہ اوّل حافظ صاحب کہتے تھے کہ مولوی صاحب فرماتے تھے کہ کسی نے یہ خبر حضرت مسیح موعود علیہ السلام تک پہنچا دی اور مولوی صاحب کے نقصان پر افسوس کیا مگر حضرت صاحب نے فرمایا تمہیں ان کے نقصان کی فکر ہے مجھے ایمان کی فکر ہے مولوی صاحب نے کیوں دوسرے شخص کو ایسی حالت میں رکھا جس سے اس کو بد دیانتی کا موقعہ ملا اور کیوں اسلامی حکم کے مطابق اس سے کوئی تحریرنہ لی اور کیوں اس سے با قاعدہ قبضہ نہ حاصل کیا؟ 152 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ گو قادیان میں بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام ابتدا سے ہی گوشہ تنہائی کی زندگی بسر کرتے رہے لیکن پھر بھی قادیان کے بعض ہندوؤں کی آپ سے اچھی ملاقات تھی چنانچہ لالہ شرم پت اور لالہ ملا وامل سلسلہ بیعت سے بہت پہلے کے ملاقاتی تھے ان سے حضرت صاحب کی اکثر مذہبی گفتگو ہوتی رہتی تھی اور باوجود متعصب آریہ ہونے کے یہ دونوں آپ سے عقیدت بھی رکھتے تھے اور آپ کے تقدس اور ذاتی طہارت کے قائل تھے۔ابتداء لالہ ملا وامل کے تعلقات بہت زیادہ تھے چنانچہ ہماری والدہ صاحبہ کی شادی کے موقعہ پر لالہ ملا وامل حضرت صاحب کے ساتھ دہلی گئے تھے مگر بعد میں اس کا آنا جانا کم ہو گیا کیونکہ یہ سخت متعصب آریہ تھا اور آریوں کو حضرت صاحب کے ساتھ سخت عداوت ہو گئی تھی چنانچہ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ حضرت صاحب کا الہام ”یہودا اسکر یولی ملا وامل ہی کے متعلق ہے۔مگر لالہ شرم پت کے تعلقات حضرت اقدس کے ساتھ آخر تک قریباً ویسے ہی رہے۔لالہ ملا وامل اب تک بقید حیات ہے مگر لالہ شرم پت کئی سال ہوئے فوت ہو چکے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی کئی تحریرات میں ان ہر دو کو اپنی بعض پیشگوئیوں کی تصدیق میں شہادت کے لئے مخاطب کیا ہے اور ان کو بار بار پوچھا ہے کہ اگر تم نے میری فلاں فلاں پیشگوئیاں پوری ہوتی مشاہدہ نہیں کیں تو حلف اٹھا کر ایک اشتہار شائع کرو اور دوسرے آریوں کو بھی ابھارا ہے کہ ان سے حلفیہ بیان شائع کرواؤ مگر یہ دونوں خاموش رہے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اليْسَ اللَّـهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ والی انگوٹھی تیار کروانی چاہی تو اس کے لئے بھی آپ نے لالہ ملا وامل کو روپیہ دے کر امرتسر بھیجا تھا۔چنانچہ لالہ ملا وامل امرتسر سے یہ انگوٹھی قریباً پانچ روپے میں تیار کروا کر لائے تھے۔حضرت صاحب نے اپنی کتابوں میں لکھا ہے کہ میں نے ایسا اس لئے کیا تھا تا کہ لالہ ملا وامل اس الہام کا پوری طرح شاہد ہو جاوے چنانچہ