سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 137
سیرت المہدی 137 حصہ اوّل اعتراض کیا کہ حضرت ابراہیم پر آگ کس طرح ٹھنڈی ہوگئی۔اس اعتراض کا جواب حضرت مولوی صاحب خلیفہ اول نے لکھا کہ آگ سے جنگ اور عداوت کی آگ مراد ہے۔انہی ایام میں ایک دن حضرت مسیح موعود علیہ السلام چھوٹی مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے اور ہم لوگ آپ کے پاؤں دبا رہے تھے اور حضرت مولوی صاحب بھی پاس بیٹھے تھے کہ کسی نے حضرت صاحب کو یہ اعتراض اور اس کا جواب جو مولوی صاحب نے لکھا تھا سنایا۔حضرت صاحب نے فرمایا اس تکلف کی کیا ضرورت ہے ہم موجود ہیں ہمیں کوئی آگ میں ڈال کر دیکھ لے کہ آگ گلزار ہو جاتی ہے یا نہیں۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ اعتراض دھرم پال آریہ مُرتد از اسلام نے کیا تھا اور حضرت مولوی صاحب نے اس کی کتاب ترک اسلام کے جواب میں نورالدین کتاب لکھی تھی۔اس میں آپ نے یہ جواب دیا تھا کہ آگ سے مراد مخالفوں کی دشمنی کی آگ ہے مگر حضرت صاحب تک یہ بات پہنچی تو آپ نے اس کو نا پسند فرمایا اور فرمایا کہ اس تاویل کی ضرورت نہیں اس زمانہ میں ہم موجود ہیں ہمیں کوئی مخالف دشمنی سے آگ کے اندر ڈال کر دیکھ لے کہ خدا اس آگ کو ٹھنڈا کر دیتا ہے کہ نہیں۔چنانچہ حضرت مسیح موعود نے ایک دوسرے موقعہ پر اس مفہوم کو اپنے ایک شعر میں بھی بیان فرمایا ہے۔ترے مکروں سے اے جاہل مرا نقصاں نہیں ہرگز کہ یہ جاں آگ میں پڑ کر سلامت آنے والی ہے اور آپ کا ایک الہام بھی اس مفہوم کو ظاہر کرتا ہے جس میں خدا تعالیٰ آپ سے فرماتا ہے کہ تو لوگوں سے کہہ دے کہ آگ سے ہمیں مت ڈراؤ آگ ہماری غلام بلکہ غلاموں کی غلام ہے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ چوہدری حاکم علی صاحب نے اس ذکر میں یہ واقعہ بھی بیان کیا کہ ایک دفعہ کسی شخص نے یہ تماشا دکھانا شروع کیا کہ آگ میں گھس جاتا تھا اور آگ اسے ضرور نہ پہنچاتی تھی۔اس شخص نے مخالفت کے طور پر حضرت صاحب کا نام لے کر کہا کہ ان کو مسیح ہونے کا دعویٰ ہے اگر بچے ہیں تو یہاں آجاویں اور میرے ساتھ آگ میں داخل ہوں کسی شخص نے یہ بات باہر سے خط میں مجھے لکھی اور میں نے وہ خط حضرت صاحب کے سامنے پیش کیا۔آپ نے فرمایا کہ یہ ایک شعبدہ ہے ہم تو وہاں جانہیں سکتے مگر آپ لکھ دیں کہ وہ یہاں