سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 135 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 135

سیرت المہدی 135 حصہ اوّل نے چاولوں کے پاس آکر ان پر دم کیا اور کہا اب تقسیم کر دو۔والدہ صاحبہ بیان کرتی ہیں کہ ان چاولوں میں ایسی برکت ہوئی کہ نواب صاحب کے سارے گھر نے کھائے اور پھر بڑے مولوی صاحب ( یعنی حضرت مولوی نورالدین صاحب) اور مولوی عبد الکریم صاحب کو بھی بھجوائے گئے اور قادیان میں اور بھی کئی لوگوں کو دئے گئے۔اور چونکہ وہ برکت والے چاول مشہور ہو گئے تھے اس لئے کئی لوگوں نے آ آ کر ہم سے مانگے اور ہم نے سب کو تھوڑے تھوڑے تقسیم کئے اور وہ سب کے لئے کافی ہو گئے۔145 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا ہم سے شیخ کرم الہی صاحب پٹیالوی نے کہ ایک دفعہ جب ابھی حضرت صاحب نے مسیحیت کا دعوی نہیں کیا تھا میں نے پٹیالہ میں پٹیالہ کے ایک باشندہ محمد حسین کا وعظ سنا۔یہ شخص اب مر چکا ہے اور اس کا خاتمہ حضرت صاحب کی مخالفت پر ہوا تھا مگر میں نے سنا کہ وہ لوگوں کو یہ وعظ کر رہا تھا کہ لوگ جب آنحضرت ﷺ کے یہ معجزے سنتے ہیں کہ آپ کی برکت سے کھانا زیادہ ہو گیا یا تھوڑ اسا پانی اتنا بڑھ گیا کہ بہت سے آدمی سیراب ہو گئے تو وہ حیران ہوتے ہیں اور ان باتوں کا یقین نہیں کرتے حالانکہ خدا کی قدرت سے یہ باتیں بالکل ممکن ہیں۔چنانچہ اس زمانہ میں بھی بزرگوں اور اولیا ءاللہ سے ایسے خوارق ظہور میں آجاتے ہیں۔پھر اس نے ایک واقعہ سنایا کہ میں ایک دفعہ انبالہ میں حضرت مرزا صاحب کی ملاقات کو گیا۔وہاں اندر سے ان کے واسطے کھانا آیا جو صرف ایک دو آدمیوں کی مقدار کا کھانا تھا۔مگر ہم سب نے کھایا اور ہم سب سیر ہو گئے حالانکہ ہم دس بارہ آدمی تھے۔شیخ کرم الہی صاحب بیان کرتے تھے کہ دعویٰ مسیحیت پر اس شخص کو ٹھوکر لگی اور وہ مخالف ہو گیا۔اور اب وہ مر چکا ہے۔146 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا ہم سے حافظ روشن علی صاحب نے کہ ان سے ڈاکٹر محمد اسماعیل خاں صاحب مرحوم نے بیان کیا تھا کہ ایک دفعہ جب کوئی جلسہ وغیرہ کا موقعہ تھا اور ہم لوگ حضرت صاحب کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اور مہمانوں کے لئے باہر پلاؤ زردہ وغیرہ پک رہا تھا کہ حضرت صاحب کے واسطے اندر سے کھانا آ گیا۔ہم سمجھتے تھے کہ یہ بہت عمدہ کھانا ہو گا لیکن دیکھا تو تھوڑ اسا خشکہ تھا اور کچھ دال تھی اور صرف ایک آدمی کی مقدار کا کھانا تھا۔حضرت صاحب نے ہم لوگوں سے فرمایا آپ بھی کھانا کھالیں چنانچہ ہم بھی ساتھ شامل ہو گئے۔حافظ صاحب کہتے تھے کہ ڈاکٹر صاحب بیان کرتے تھے کہ اس کھانے سے ہم