سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 134 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 134

سیرت المہدی 134 حصہ اوّل اور کہا کہ کھانا تو تھوڑا ہے۔صرف ان چند مہمانوں کے مطابق پکایا گیا تھا۔جن کے واسطے آپ نے کہا تھا مگر شاید باقی کھانے کا تو کچھ بھینچ تان کر انتظام ہو سکے گا لیکن زردہ تو بہت ہی تھوڑا ہے اس کا کیا کیا جاوے۔میرا خیال ہے کہ زردہ بھجواتی ہی نہیں صرف باقی کھانا نکال دیتی ہوں۔حضرت صاحب نے فرمایا نہیں یہ مناسب نہیں۔تم زردہ کا برتن میرے پاس لاؤ چنانچہ حضرت صاحب نے اس برتن پر رومال ڈھانک دیا اور پھر رومال کے نیچے اپنا ہاتھ گزار کر اپنی انگلیاں زردہ میں داخل کر دیں اور پھر کہا اب تم سب کے واسطے کھانا نکالوخدا برکت دے گا۔چنانچہ میاں عبداللہ صاحب کہتے ہیں کہ زردہ سب کے واسطے آیا اور سب نے کھایا اور پھر کچھ بیچ بھی گیا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ جب میاں عبداللہ صاحب نے یہ روایت بیان کی تو مولوی عبدالمغنی صاحب بھی پاس تھے انہوں نے کہا کہ سید فضل شاہ صاحب نے بھی یہ روایت بیان کی تھی۔میاں عبداللہ صاحب نے کہا اچھا تب تو اس روایت کی تصدیق بھی ہوگئی۔شاہ صاحب بھی اس وقت موجود ہوں گے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ دوسرے دن میاں عبداللہ صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ میں نے سید فضل شاہ صاحب سے پوچھا ہے وہ بھی اس وقت موجود تھے اور ان کو یہ روایت یاد ہے۔اور میاں عبداللہ صاحب نے بیان کیا کہ مجھ سے یہ گھر والی بات خود حضرت صاحب نے بیان فرمائی تھی۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ میں نے سیہ روایت سن کر حضرت والدہ صاحبہ سے پوچھا کہ کیا آپ کو یہ واقعہ یاد ہے انہوں نے کہا کہ خاص یہ واقعہ تو مجھے یاد نہیں لیکن ایسا ضرور ہوا ہو گا۔کیونکہ ایسے واقعات بارہا ہوئے ہیں۔میں نے پوچھا کس طرح۔والدہ صاحبہ نے فرمایا یہی کہ تھوڑا کھانا تیار ہوا اور پھر مہمان زیادہ آگئے۔مثلاً پچاس کا کھانا ہوا تو سو آ گئے۔لیکن وہی کھانا حضرت صاحب کے دم سے کافی ہو جا تا رہا۔پھر حضرت والدہ صاحبہ نے ایک واقعہ بیان کیا کہ ایک دفعہ کوئی شخص حضرت صاحب کے واسطے ایک مرغ لایا۔میں نے حضرت صاحب کے واسطے اس کا پلاؤ تیار کرایا اور وہ پلاؤ اتنا ہی تھا کہ بس حضرت صاحب ہی کے واسطے تیار کروایا تھا مگر اسی دن اتفاق ایسا ہوا کہ نواب صاحب نے اپنے گھر میں دھونی دلوائی تو نواب صاحب کے بیوی بچے بھی ادھر ہمارے گھر آگئے اور حضرت صاحب نے مجھ سے فرمایا کہ ان کو بھی کھانا کھلاؤ۔میں نے کہا کہ چاول تو بالکل ہی تھوڑے ہیں صرف آپ کے واسطے تیار کروائے تھے۔حضرت صاحب نے فرمایا چاول کہاں ہیں پھر حضرت صاحب