سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 133 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 133

سیرت المہدی 133 حصہ اوّل زمانہ میں جو آخرین منھم کا زمانہ ہے حقیقت حال منکشف کی گئی چنانچہ جب حضرت مسیح موعود نے منشی صاحب کو یہ فرمایا کہ اگر آپ نے کسی شخص کو اپنی توجہ سے گرا لیا تو اس کا نتیجہ یا فائدہ کیا ہوا یعنی دینی اور روحانی لحاظ سے اس توجہ نے کیا فائدہ دیا کیونکہ یہ بات تو مشق کے ساتھ ایک دہر یہ بھی اپنے اندر پیدا کر سکتا ہے تو منشی صاحب کی آنکھیں کھل گئیں اور ان کو پتہ لگ گیا کہ خواہ ہم علم توجہ میں کتنا بھی کمال حاصل کر لیں لیکن اگر لوگ حقیقی تقوی وطہارت اور تعلق باللہ کے مقام کو حاصل نہیں کرتے تو یہ بات روحانی طور پر کچھ بھی فائدہ نہیں دے سکتی۔واقعی منہاج نبوت کے مقابلہ میں جس پر حضرت مسیح موعود کو قائم کیا گیا اور جس نے روحانیت کا ایک سورج چڑھا دیا۔یہ دود آمیز مکدر اور عارضی روشنی جس سے بسا اوقات ایک چور بھی لوگوں کے قلوب سے ایمان و اسلام کا اثاثہ چرانے کی نیت سے اپنی سیاہ کاری میں ممد بنا سکتا ہے کب ٹھہر سکتی تھی۔نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ منشی احمد جان صاحب لدھیانوی ایک بڑے صوفی مزاج آدمی تھے اور اپنے علاقہ کے ایک مشہور پیر سجادہ نشین تھے مگر افسوس کہ حضرت صاحب کے دعوئی میسحیت سے پہلے ہی فوت ہو گئے۔ان کو حضرت مسیح موعود سے اس درجہ عقیدت تھی کہ ایک دفعہ انہوں نے آپ کو مخاطب کر کے یہ شعر فرمایا۔ہم مریضوں کی ہے تمہیں پہ نظر تم مسیحا بنو خدا کے لئے منشی صاحب موصوف کی لڑکی سے حضرت خلیفہ اول کی شادی ہوئی اور حضرت مولوی صاحب کی سب نرینہ اولا دا نہی کے بطن سے ہے۔منشی صاحب کے دونوں صاحبزادے قادیان میں ہی ہجرت کر کے آگئے ہوئے ہیں اور منشی صاحب کے اکثر بلکہ قریباً سب متبعین احمدی ہیں۔نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ مولوی سید سرور شاہ صاحب منشی صاحب مرحوم سے خود نہیں ملے لہذا انہوں نے کسی اور سے یہ واقعہ سنا ہوگا۔144 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے چند مہمانوں کی دعوت کی اور ان کے واسطے گھر میں کھانا تیار کر وایا مگر عین جس وقت کھانے کا وقت آیا اتنے ہی اور مہمان آگئے اور مسجد مبارک مہمانوں سے بھر گئی۔حضرت صاحب نے اندر کہلا بھیجا کہ اور مہمان آگئے ہیں کھانا زیادہ بھجواؤ۔اس پر بیوی صاحبہ نے حضرت صاحب کو اندر بلوا بھیجا -