سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 131
سیرت المہدی 131 حصہ اوّل لہذا اب ان کی شرارتیں گہری چال کی صورت میں بدل کر قانون کی آڑ میں آگئی ہیں۔(خاکسار ایڈیشن ثانی کے موقعہ پر عرض کرتا ہے کہ میرے مندرجہ بالا ریمارک سے وہ حالت خارج ہے جو اب کچھ عرصہ سے احرار کی فتنہ انگیزی اور بعض حکام کی جنبہ داری سے قادیان میں جماعت احمدیہ کے خلاف پیدا ہو رہی ہے۔) 141 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ جب حضور کو وَسِعُ مگانگ ( یعنی اپنا مکان وسیع کر ) کا الہام ہوا۔تو حضور نے مجھ سے فرمایا کہ مکانات بنوانے کے لئے تو ہمارے پاس روپیہ ہے نہیں اس حکم الہی کی اس طرح تعمیل کر دیتے ہیں کہ دو تین چھپر بنوا لیتے ہیں۔چنانچہ حضور نے مجھے اس کام کے واسطے امرتسر حکیم محمد شریف صاحب کے پاس بھیجا جو حضور کے پرانے دوست تھے۔اور جن کے پاس حضور اکثر امرتسر میں ٹھہرا کرتے تھے۔تا کہ میں ان کی معرفت چھپر باندھنے والے اور چھپر کا سامان لے آؤں۔چنانچہ میں جا کر حکیم صاحب کی معرفت امرتسر سے آدمی اور چھپر کا سامان لے آیا۔اور حضرت صاحب نے اپنے مکان میں تین چھپر تیار کر وائے یہ چھپر کئی سال تک رہے۔پھر ٹوٹ پھوٹ گئے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ میاں عبداللہ صاحب بیان کرتے ہیں کہ یہ بات دعوی مسیحیت سے پہلے کی ہے نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ توسیع مکان سے مراد کثرت مہمانان و ترقی قادیان بھی ہے۔142 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے مولوی شیر علی صاحب نے کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں اعجاز احمدی کی تصنیف کے بعد مولوی ثناء اللہ قادیان آیا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ اس کی دستی خط و کتابت ہوئی تو اس نے ایک دفعہ اپنا ایک آدمی کسی بات کے دریافت کرنے کے لئے حضرت صاحب کے پاس بھیجا۔یہ شخص جب مسجد مبارک میں حضرت صاحب کے پاس آیا تو حضرت صاحب اس وقت اُٹھ کر اندرون خانہ تشریف لے جارہے تھے۔اس نے حضرت صاحب سے کوئی بات پونچھی اور حضرت صاحب نے اس کا جواب دیا۔جس پر اس نے کوئی سوال کیا جس کا مطلب یہ تھا کہ یہ کام یا یہ بات کون کرے۔مولوی صاحب کہتے ہیں کہ سوال مجھے یاد نہیں رہا مگر اس پر حضرت صاحب نے اسے فرمایا تو مولوی صاحب فرماتے ہیں کہ میں نے اس دفعہ کے علاوہ کبھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے منہ کے مطابق روایت نمبر ۳۱۱