سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 130 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 130

سیرت المہدی 130 حصہ اوّل مارنے کے واسطے تیار ہو جاتے۔آئے دن یہ شکائتیں حضرت صاحب کے پاس پہنچتیں رہتی تھیں مگر آپ ہمیشہ یہی فرماتے کہ صبر کرو۔بعض جو شیلے احمدی حضرت صاحب کے پاس آتے اور عرض کرتے کہ حضور ہم کو صرف ان کے مقابلہ کی اجازت دے دیں۔اور بس پھر ہم ان کو خود سیدھا کر لیں گے۔حضور فرماتے نہیں صبر کرو۔ایک دفعہ سید احمد نور مہاجر کابلی نے اپنی تکلیف کا اظہار کیا۔اور مقابلہ کی اجازت چاہی مگر حضرت صاحب نے فرمایا دیکھو اگر امن اور صبر کے ساتھ یہاں رہنا ہے تو یہاں رہو اور اگر لڑنا ہے اور صبر نہیں کر سکتے تو کابل چلے جاؤ۔چنانچہ یہ اس تعلیم کا نتیجہ تھا کہ بڑے بڑے معزز احمدی جو کسی دوسرے کی ذراسی بات بھی برداشت نہیں کر سکتے تھے۔وہ ذلیل و حقیر لوگوں کے ہاتھ سے تکلیف اور ذلت اٹھاتے تھے اور دم نہ مارتے تھے مگر ایک دفعہ ایسا اتفاق ہوا کہ ایک غریب احمدی نے اپنے مکان کے واسطے ڈھاب سے کچھ بھرتی اٹھائی تو سکھ وغیرہ ایک بڑا جتھا بنا کر اور لاٹھیوں سے مسلح ہو کر اس کے مکان پر حملہ آور ہو گئے۔پہلے تو احمدی بچتے رہے۔لیکن جب انہوں نے بے گناہ آدمیوں کو مارنا شروع کیا اور مکان کو بھی نقصان پہنچانے لگے تو بعض احمد یوں نے بھی مقابلہ کیا جس پر طرفین کے آدمی زخمی ہوئے اور بالآ خر حملہ آوروں کو بھا گنا پڑا۔چنانچہ یہ پہلا موقعہ تھا کہ قادیان کے غیر احمدیوں کو عملاً پتہ لگا کہ احمدیوں کا ڈران سے نہیں بلکہ اپنے امام سے ہے۔اس کے بعد پولیس نے اس واقعہ کی تحقیقات شروع کی۔اور چونکہ احمدی سراسر مظلوم تھے اور غیر احمدی جتھا بنا کر ایک احمدی کے مکان پر جارحانہ طور پر لاٹھیوں سے مسلح ہو کر حملہ آور ہوئے تھے۔اس لئے پولیس با وجود مخالف ہونے کے ان کا چالان کرنے پر مجبور تھی جب ان لوگوں نے دیکھا کہ اب ہتھکڑی لگتی ہے تو ان کے آدمی حضرت صاحب کے پاس دوڑے آئے کہ ہم سے قصور ہو گیا ہے۔حضور ہمیں معاف کر دیں حضرت صاحب نے معاف کر دیا۔یہ پہلا دھکا تھا جو قادیان کی غیر احمدی پبلک کو پہنچا۔اور یہ غالباً ۱۹۰۶ء کی بات ہے۔اس کے بعد ان کی شرارتیں تو بدستور جاری رہیں اور اب تک جاری ہیں۔مگراب خدا کے فضل سے قادیان میں احمدیوں کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے جو طبعا غیر احمدیوں کو ہمارے خلاف جرات کرنے سے روکے رکھتی ہے۔دوسرے حضرت صاحب کی وفات کے بعد بعض دفعہ غیر احمدیوں کی شرارت کی وجہ سے لڑائی کی صورت پیدا ہو چکی ہے۔اور ہر دفعہ غیر احمد یوں کو سخت ذلت اٹھانی پڑی ہے۔له مطابق روایت نمبر ۳۱۱۔