سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 128 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 128

سیرت المہدی 128 حصہ اوّل خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ فرمان میاں عبداللہ صاحب نے اپنی نوٹ بک میں نوٹ کیا ہوا تھا اس لئے تاریخ وغیرہ پوری پوری محفوظ رہی اور خاکسارا اپنی رائے سے عرض کرتا ہے کہ یا عزیز کے الفاظ میں حکمت یہ معلوم ہوتی ہے کہ جب انسان اپنے قلب پر خدا کی طاقت و جبروت اور قہر و غلبہ کی صفات کا نقشہ جمائے گا اور ان کا تصور کرے گا تو لازمی طور پر اس کا قلب غیر اللہ کے رعب سے آزاد ہو جائے گا اور بوجہ اس کے کہ وہ مومن ہے اس کو ان صفات کے مطالعہ سے ایک طاقت ملے گی جو دوسرے کو مرعوب کر دے گی اور انگلی سے لکھنا علم النفس کے مسئلہ کے ماتحت تصور کو مضبوط کرنے کے واسطے ہے ورنہ وظائف کوئی منتر جنتر نہیں ہوتے۔واللہ اعلم 138 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا ہم سے حافظ روشن علی صاحب نے کہ جب میں شروع شروع میں قادیان آیا تو اس کے چند دن بعد ایک بڑا معمر شخص بھی یہاں آیا تھا۔یہ شخص حضرت سید احمد صاحب بریلوی کے مریدوں میں سے تھا اور بیان کرتا تھا کہ میں سید صاحب مرحوم کے ساتھ حج میں ہم رکاب تھا اور ان کے جنگوں میں بھی ان کے ساتھ رہا تھا اور اپنی عمر قریباً سو اسوسال کی بتا تا تھا قادیان میں آکر اس نے حضرت صاحب کی بیعت کی۔یہ شخص دین دار تہجد گزار تھا اور باوجود اس پیرانہ سالی کے بڑا مستعد تھا۔دو چار دن کے بعد وہ قادیان سے واپس جانے لگا اور حضرت صاحب سے اجازت چاہی تو آپ نے فرمایا کہ آپ اتنی جلدی کیوں جاتے ہیں کچھ عرصہ اور قیام کریں اس نے کہا میں حضور کے واسطے موجب تکلیف نہیں بننا چاہتا۔حضرت صاحب نے فرمایا ہمیں خدا کے فضل سے کوئی تکلیف نہیں آپ ٹھہریں ہم سب انتظام کر سکتے ہیں۔چنانچہ وہ یہاں ڈیڑھ دو ماہ ٹھہرا اور پھر چلا گیا۔ایک دفعہ دوبارہ بھی وہ قادیان آیا تھا اور پھر اس کے بعد فوت ہو گیا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ میں نے جب یہ روایت سنی تو اسے بہت عجیب سمجھا کیونکہ ایک شخص کا دوصدیوں کے سر کو پانا اور پھر دواماموں کی ملاقات اور بیعت سے مشرف ہونا کوئی معمولی بات نہیں چنانچہ میں نے اسی شوق میں یہ روایت مولوی شیر علی صاحب کے پاس بیان کی تو انہوں نے کہا کہ میں نے بھی اس شخص کو دیکھا ہے۔اس کا چھوٹا قد تھا اور وہ بہت معمر آدمی تھا اور اس کے بدن پر زخموں کے نشانات تھے اور اس نے حضرت مولوی صاحب خلیفہ اول کو صلوٰۃ خوف کے عملی طریقے بتائے تھے اور بتایا تھا کہ کس