سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 127 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 127

سیرت المہدی 127 حصہ اوّل جہاں اللہ لے جائے گا وہیں جائیں گے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ ایک دفعہ ۱۸۸۷ء میں بھی حضرت صاحب نے قادیان چھوڑ کر کہیں باہر جانے کا ارادہ ظاہر کیا تھا۔جیسا کہ آپ نے اپنی کتاب محنہ حق میں اس کا تذکرہ لکھا ہے۔136 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ میں نے میاں عبداللہ صاحب سنوری کی وہ نوٹ بک یعنی کا پی دیکھی ہے جس میں وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سفر ہوشیار پور کا حساب کتاب درج کیا کرتے تھے۔یہ وہی سفر ہے جس میں حضرت صاحب نے چالیس دن کا چلہ کیا اور جس میں آپ کا ماسٹر مرلی دھر آریہ کے ساتھ مباحثہ ہوا۔جس کا سرمہ چشم آریہ میں ذکر ہے۔اس کا پی سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعود اس سفر سے ۷ار مارچ ۱۸۸۶ء کو واپس قادیان پہنچے تھے۔حساب کتاب کی پہلی تاریخ کاپی میں یکم فروری ۱۸۸۶ء درج ہے۔مگر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ میاں عبداللہ صاحب نے حساب کتاب بعد میں لکھنا شروع کیا تھا اور حضرت صاحب ہوشیار پور جنوری کے تیسرے ہفتہ میں ہی پہنچ گئے تھے۔ورنہ چالیس دن کا چلہ اور اس کے بعد میں روز کا قیام تاریخ ہائے مذکورہ میں سانہیں سکتے علاوہ ازیں میاں عبداللہ صاحب کو یہ بھی یاد پڑتا ہے کہ ہوشیار پور میں حضرت صاحب نے دو ماہ قیام فرمایا تھا واللہ اعلم۔کا پی مذکور میں سر تمارچ ۱۸۸۶ء کا حساب حسب ذیل درج ہے۔مربی انبہ، اچار، شیر، مصری ، چینی ، گوشت، لفافہ، پالک ، دال ماش، نمک، دھنیا، پیاز، تھوم، آرد گندم ،ٹکٹ ، مرمت تھیلا ، ریوڑی ،میاں عبداللہ صاحب بیان کرتے ہیں کہ کاپی میں صرف وہی چیزیں درج نہیں ہوتی تھیں جو حضرت کے لئے آئی ہوں بلکہ سب حساب درج ہوتا تھا خواہ کچھ ہمارے لئے منگایا گیا ہو یا کسی مہمان کے لئے۔137 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ ۱۳۰۳ ء ماہ ذی الحجہ بروز جمعہ بوقت دس بجے حضرت صاحب نے مجھ سے فرمایا کہ اگر کسی شخص کا خوف ہو اور دل پر اس کے رعب پڑنے کا اندیشہ ہو تو آدمی صبح کی نماز کے بعد تین دفعہ یسین پڑھے اور اپنی پیشانی پر خشک انگلی سے يَا عَزِیز لکھ کر اس کے سامنے چلا جاوے انشاء اللہ اس کا رعب نہیں پڑے گا بلکہ خود اس پر رعب پڑ جائے گا۔اور ویسے بھی حضرت صاحب نے مجھے ہر روز کے واسطے بعد نماز فجر تین دفعہ یسین پڑھنے کا وظیفہ بتایا تھا۔کے مطابق روایت نمبر ۳۱۱