سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 126 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 126

سیرت المہدی 126 حصہ اوّل جماعت کیوں بن رہی ہے۔اور میں تمہاری باتوں سے ناواقف نہیں اور میں اب جلد تمہاری خبر لینے والا ہوں اور تم کو پتہ لگ جائے گا کہ کس طرح ایسی جماعت بنایا کرتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔چوہدری صاحب کہتے ہیں ہم ناچار وہاں سے بھی نا کام واپس آگئے اور حضرت صاحب کو سارا ماجرا سنایا۔چوہدری صاحب کہتے ہیں کہ ان دنوں میں مخالفت کا سخت زور تھا اور انگریز حکام بھی جماعت پر بہت بدظن تھے اور سمجھتے تھے کہ یہ کوئی سازش کے لئے سیاسی جماعت بن رہی ہے۔اور بٹالہ میں ان دنوں پولیس کے افسر بھی سخت معاند و مخالف تھے اور طرح طرح سے تکلیف دیتے رہتے تھے اور قادیان کے اندر بھی مرزا امام الدین اور مرزا نظام الدین وغیرہ اور ان کی انگیخت سے قادیان کے ہندو اور سکھ اور غیر احمدی سخت ایذا رسانی پر تلے ہوئے تھے اور قادیان میں احمدیوں کو سخت ذلت اور تکلیف سے رہنا پڑتا تھا اور ان دنوں میں قادیان میں احمدیوں کی تعداد بھی معمولی تھی اور احمدی سوائے حضرت کے خاندان کے قریباً سب ایسے تھے جو باہر سے دین کی خاطر ہجرت کر کے آئے ہوئے تھے یا مہمان ہوتے تھے۔حضرت صاحب نے یہ حالات دیکھے اور جماعت کی تکلیف کا مشاہدہ کیا تو جماعت کے آدمیوں کو جمع کر کے مشورہ کیا اور کہا کہ اب یہاں ایسے حالات پیدا ہو گئے ہیں کہ یہاں رہنا مشکل ہو گیا ہے اور ہم نے تو کام کرنا ہے۔یہاں نہیں تو کہیں اور کہی۔اور ہجرت بھی انبیاء کی سنت ہے۔پس میرا ارادہ ہے کہ کہیں باہر چلے جائیں۔چوہدری صاحب کہتے ہیں کہ اس پر پہلے حضرت خلیفہ اول نے عرض کیا کہ حضور بھیرہ تشریف لے چلیں۔وہاں میرے مکانات حاضر ہیں اور کسی طرح کی تکلیف نہیں۔مولوی عبدالکریم صاحب نے سیالکوٹ کی دعوت دی ، شیخ رحمت اللہ صاحب نے کہا لاہور میرے پاس تشریف لے چلیں۔میرے دل میں بھی بار بار اٹھتا تھا کہ میں اپنا مکان پیش کر دوں مگر میں شرم سے رُک جاتا تھا آخر میں نے بھی کہا کہ حضور میرے گاؤں میں تشریف لے چلیں۔وہ سالم گاؤں ہمارا ہے اور کسی کا دخل نہیں اور اپنے مکان موجود ہیں اور وہ ایک ایسی جگہ ہے کہ حکام کا بھی کم دخل ہے۔اور زمیندارہ رنگ میں گویا حکومت بھی اپنی ہے ، حضرت صاحب نے پوچھا وہاں ضروریات مل جاتی ہیں۔میں نے کہا۔رسد وغیرہ سب گھر کی اپنی کافی ہوتی ہے۔اور ویسے وہاں سے ایک قصبہ تھوڑے فاصلہ پر ہے جہاں سے ہر قسم کی ضروریات مل سکتی ہیں۔حضرت صاحب نے کہا! اچھا وقت آئے گا تو دیکھا جائے گا۔