سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 125 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 125

سیرت المہدی 125 حصہ اوّل خود بخود آپ کی طرف کچھی چلی آتی تھیں اور خدا کی طرف سے آپ کو ایک رعب عطا ہوا تھا۔جس کے سامنے دلیر سے دلیر دشمن بھی کانپنے لگ جاتا تھا۔اور آپ ایک معجز نما حسن و احسان سے آراستہ کئے گئے تھے اور ہر قدم پر خدائی نصرت و تائید آپ کے ساتھ تھی ورنہ آپ سے زیادہ عالم و منطقی دنیا میں پیدا ہوئے اور حباب کی طرح اُٹھ کر بیٹھ گئے۔135 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے چوہدری حاکم علی صاحب نے کہ جب مرزا امام الدین و مرزا نظام الدین مسجد مبارک کا راستہ دیوار کھینچ کر بند کرنے لگے تو حضرت صاحب نے چند آدمیوں کو جن میں میں بھی تھا فرمایا کہ ان کے پاس جاؤ اور بڑی نرمی سے سمجھاؤ کہ یہ راستہ بند نہ کریں اس سے میرے مہمانوں کو بہت تکلیف ہوگی اور اگر چاہیں تو میری کوئی اور جگہ دیکھ کر بے شک قبضہ کر لیں اور حضرت صاحب نے تاکید کی کہ کوئی سخت لفظ استعمال نہ کیا جاوے۔چوہدری صاحب کہتے ہیں ہم گئے تو آگے دونو مرزے مجلس لگائے بیٹھے تھے۔اور تھے کا دور چل رہا تھا۔ہم نے جا کر حضرت صاحب کا پیغام دیا اور بڑی نرمی سے بات شروع کی لیکن مرزا امام الدین نے سنتے ہی غصہ سے کہا وہ ( یعنی حضرت صاحب ) خود کیوں نہیں آیا اور میں تم لوگوں کو کیا جانتا ہوں۔پھر طعن سے کہا کہ جب سے آسمانوں سے وحی آنی شروع ہوئی ہے اس وقت سے اسے خبر نہیں کیا ہو گیا ہے وغیرہ وغیرہ۔چوہدری صاحب کہتے ہیں ہم لوگ اپنا سا منہ لے کر واپس آگئے۔پھر حضرت صاحب نے ہمارے ساتھ اور بعض مہمانوں کو ملا دیا اور کہا کہ ڈپٹی کمشنر کے پاس جاؤ اور اس سے جا کر ساری حالت بیان کرو اور کہو کہ ہم لوگ دور دراز سے دین کی خاطر یہاں آتے ہیں اور یہ ایک ایسا فعل کیا جا رہا ہے جس سے ہم کو بہت تکلیف ہوگی کیونکہ مسجد کا راستہ بند ہو جائیگا۔ان دنوں میں قادیان کے قریب ایک گاؤں میں کوئی سخت واردات ہوگئی تھی اور ڈپٹی کمشن اور کپتان پولیس سب وہاں آئے ہوئے تھے۔چنانچہ ہم لوگ وہاں گئے اور ذرا دور یگے ٹھہرا کر آگے بڑھے۔ڈپٹی کمشنر اس وقت باہر میدان میں کپتان کے ساتھ کھڑا باتیں کر رہا تھا۔ہم میں سے ایک شخص آگے بڑھا اور کہا کہ ہم قادیان سے آئے ہیں اور اپنا حال بیان کرنا شروع کیا۔مگر ڈپٹی کمشنر نے نہایت غصہ کے لہجہ میں کہا کہ تم بہت سے آدمی جمع ہو کر مجھ پر رعب ڈالنا چاہتے ہو۔میں تم لوگوں کو خوب جانتا ہوں اور میں خوب سمجھتا ہوں کہ یہ