سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 118 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 118

سیرت المہدی 118 حصہ اوّل وہاں بارہ سال تک امن کی زندگی بسر کی۔اس کی وفات پر رنجیت سنگھ نے جو رام گڑھیہ مسل کی جاگیر پر قابض ہو گیا تھا غلام مرتضی کو قادیان واپس بلالیا اور اس کی جڑی جاگیر کا ایک معقول حصہ اسے واپس کر دیا۔اس پر غلام مرتضی اپنے بھائیوں سمیت مہا راجہ کی فوج میں داخل ہو گیا اور کشمیر کی سرحد اور دوسرے مقامات پر قابل قدر خدمات سرانجام دیں۔نو نہال سنگھ شیر سنگھ اور دربار لاہور کے دور دوراں میں غلام مرتضی ہمیشہ فوجی خدمت پر مامور رہا۔۱۸۴۱ء میں یہ جرنل ونچورا کے ساتھ منڈی اور کلو کی طرف بھیجا گیا اور ۱۸۴۳ء میں ایک پیادہ فوج کا کمیندار بنا کر پشاور روانہ کیا گیا۔ہزارہ کے مفسدے میں اس نے کار ہائے نمایاں کئے اور جب ۱۸۴۸ء کی بغاوت ہوئی تو وہ اپنی سرکار کا وفادار رہا اور اس کی طرف سے لڑا۔اس موقعہ پر اس کے بھائی غلام محی الدین نے بھی اچھی خدمات کیں۔جب بھائی مہاراج سنگھ اپنی فوج کو لئے دیوان مولراج کی امداد کے واسطے ملتان جارہا تھا تو غلام محی الدین اور دوسرے جاگیر داران لنگر خان ساہیوال اور صاحب خان ٹوانہ نے مسلمان آبادی کو برانگیختہ کیا اور مصر صاحب دیال کی فوج کے ساتھ مل کر باغیوں پر حملہ کر کے ان کو شکست فاش دی اور دریائے چناب کی طرف دھکیل دیا جہاں چھ سو سے زیادہ باغی دریا میں غرق ہو کر ہلاک ہو گئے۔انگریزی گورنمنٹ کی آمد پر اس خاندان کی جاگیر ضبط ہو گئی مگر سات سو کی ایک پینشن غلام مرتضی اور اس کے بھائیوں کو عطا کی گئی اور قادیان اور اس کے گردو نواح پر ان کے حقوق مالکانہ قائم رہے۔اس خاندان نے غدر ۱۸۵۷ء میں نہایت عمدہ خدمات کیں۔غلام مرتضی نے بہت سے آدمی بھرتی کئے اور اس کا بیٹا غلام قادر اس وقت جنرل نکلسن کی فوج میں تھا جب کہ افسر موصوف نے تریمو گھاٹ پر نمبر ۴۶ نیو انفنٹری کے باغیوں کو جو سیالکوٹ سے بھاگے تھے تہ تیغ کیا تھا۔جنرل نکلسن نے غلام قادر کو ایک سند دی جس میں یہ لکھا کہ ۱۸۵۷ء کے غدر میں خاندان قادیان نے ضلع کے دوسرے تمام خاندانوں سے زیادہ وفاداری دکھائی ہے۔133 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ رسالہ کشف الغطاء میں جو حکام گورنمنٹ کے واسطے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تحریر فرمایا تھا حضرت مسیح موعود تحریر فرماتے ہیں کہ:۔