سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 117 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 117

سیرت المہدی 117 حصہ اوّل ذی اقتدار شخص تھا۔موجودہ راجہ صاحب کپورتھلہ اس کے سلسلہ میں سے ہیں۔بارہ سال کے بعد مرزا عطا محمد صاحب کو بیگووال میں ہی دشمنوں کے ہاتھ سے زہر دیدیا گیا۔خاکسار عرض کرتا ہے واللہ اعلم کہ رام گڑھی مسل کے مشہور و معروف سرگروہ جتا سنگھ نے خود یا اس کے متبعین نے غالبا ۱۸۰۲ء کے قریب قریب قادیان پر قبضہ پایا ہے۔جسا سنگھ ۱۸۰۳ء میں مر گیا اور اس کے علاقہ کے بیشتر حصہ پر اس کے بھتیجے دیوان سنگھ نے قبضہ کر لیا۔چنانچہ دیوان سنگھ کے ماتحت قریباً پندرہ سال رام گڑھی مسل قادیان پر قابض رہی۔جس کے بعد راجہ رنجیت سنگھ نے رام گڑھیوں کو زیر کر کے ان کا تمام علاقہ اپنے قبضہ میں کر لیا۔یہ ۱۸۱۶ء کے بعد کی بات ہے اس کے بعد غالبا ۱۸۳۴ء یا ۱۸۳۵ء کے قریب راجہ رنجیت سنگھ کی طرف سے ہمارے دادا مرزا غلام مرتضی صاحب کو قادیان کی جاگیر واپس مل گئی اس دوران میں ہمارے دادا صاحب کو بڑے بڑے مصائب کا سامنا کرنا پڑا۔132 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ کتاب پنجاب چیفس یعنی تذکرہ روسائے پنجاب میں جسے اولاً سرلیپل گریفن نے زیر ہدایت پنجاب گورنمنٹ تالیف کرنا شروع کیا اور بعد میں مسٹر میسی اور مسٹر کریک نے (جواب بوقت ایڈیشن ثانی کتاب هذا سر ہنری کریک کی صورت میں گورنمنٹ آف انڈیا کے ہوم ممبر ہیں) علی الترتیب گورنمنٹ پنجاب کے حکم سے اسے مکمل کیا اور اس پر نظر ثانی کی۔ہمارے خاندان کے متعلق مندرجہ ذیل نوٹ درج ہے۔شہنشاہ بابر کی عہد حکومت کے آخری سال یعنی ۱۵۳۰ء میں ایک مغل مسمی ہادی بیگ باشندہ سمر قند اپنے وطن کو چھوڑ کر پنجاب میں آیا اور ضلع گورداسپور میں بودوباش اختیار کی۔یہ شخص کچھ عالم آدمی تھا اور قادیان کے گردو نواح کے ستر مواضعات کا قاضی یا حاکم مقرر کیا گیا۔کہتے ہیں کہ قادیان اسی نے آباد کیا اور اس کا نام اسلام پور قاضی رکھا جو بگڑتے بگڑتے قادیان ہو گیا۔کئی پشتوں تک یہ خاندان شاہی حکومت کے ماتحت معزز عہدوں پر ممتاز رہا اور محض سکھوں کے عروج کے زمانہ میں یہ افلاس کی حالت میں ہو گیا تھا۔گل محمد اور اس کا بیٹا عطا محمد رام گڑھیہ اور کنھیا مسلوں سے جن کے قبضے میں قادیان کے گردونواح کا علاقہ تھا ہمیشہ لڑتے رہے اور آخر کار اپنی تمام جا گیر کھو کر عطا محمد بیگووال میں سردار فتح سنگھ اہلو والیہ کی پناہ میں چلا گیا اور