سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 116
سیرت المہدی 116 حصہ اوّل مغلاں مشہور ہو گیا تب سے برابر آباد چلا آتا ہے۔کبھی ویران نہیں ہوا۔“ ( اس روایت میں جو عرب سے آنا بیان ہوا ہے یہ غالبا سہو کتابت ہے ) 131 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ مغلیہ سلطنت کی تباہی پر پنجاب کا ملک خصوصاً اٹھارویں صدی عیسوی کے آخری نصف حصہ میں خطر ناک طوائف الملو کی کا منظر رہا ہے۔شمال سے احمد شاہ ابدالی اور شاہ زمان کے حملے ایک عارضی تسلط سے زیادہ اثر نہیں رکھتے تھے اور دراصل سکھ قوم کا دور دورہ شروع ہو چکا تھا۔لیکن چونکہ ابھی تک سکھ قوم کے اندر اتحاد و انتظام کا مادہ مفقود تھا۔اور نہ ہی ان کا اس وقت کوئی واحد لیڈر تھا۔اس لئے ان کا عروج بجائے امن پیدا کرنے کے آپس کے جنگ وجدال کی وجہ سے پرلے درجہ کا امن شکن ہو رہا تھا۔اس زمانہ میں سکھ بارہ مسلوں یعنی بارہ جتھوں اور گروہوں میں منقسم تھے۔اور ہر مسل اپنے سردار یا سرداروں کے ماتحت ماردھاڑ کر کے اپنے واسطے خود مختار ریاستیں بنارہی تھی۔اس وجہ سے اس زمانہ میں پنجاب کے اندر ایک مستقل سلسلہ کشت و خون کا جاری تھا۔اور کسی کا مال و جان اور آبرو محفوظ نہ تھے۔حتی کہ وہ وقت آیا کہ راجہ رنجیت سنگھ نے سب کو زیر کر کے پنجاب میں ایک واحد مرکزی سکھ حکومت قائم کر دی۔قادیان اور اس کے گردونواح کا علاقہ چونکہ ہمارے بزرگوں کے زیر حکومت تھا۔اس لئے اس طوائف الملو کی کے زمانہ میں ہمارے بزرگوں کو بھی سکھوں کے ساتھ بہت سے معر کے کرنے پڑے۔جن سکھ مسلوں کے ساتھ ہمارے بزرگوں کا واسطہ پڑا وہ رام گڑھی مسل اور کنھیا مسل کے نام سے مشہور تھیں۔کیونکہ قادیان کی ریاست کا علاقہ زیادہ تر انہی دو مسلوں کے علاقہ سے ملتا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پڑدادا مرز اگل محمد صاحب نے ایک حد تک سکھوں کی دست برد سے اپنے علاقہ کو بچائے رکھا۔لیکن پھر بھی بہت سے دیہات ان کے ہاتھ سے نکل گئے مگر ان کی وفات کے بعد جو غالبًا ۱۸۰۰ء میں ہوئی ان کے فرزند مرزا عطا محمد صاحب کے زمانہ میں جلد ہی قادیان کے گردونواح کا سارا علاقہ اور بالآخر خود قادیان سکھوں کے قبضہ میں چلے گئے اور مرزا عطا محمد صاحب اپنی جڑی ریاست سے نکل جانے پر مجبور ہو گئے۔چنانچہ مرزا عطا محمد صاحب دریائے بیاس سے پار جا کر موضع بیگووال میں سردار فتح سنگھ اہلو والیہ رئیس علاقہ کے مہمان ٹھہرے۔سردار موصوف اہلو والیہ مسل کا سر گروہ تھا اور اس زمانہ میں ایک بڑا