سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 102 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 102

سیرت المہدی 102 حصہ اوّل مرزا محمد بیگ مذکور کے چھوٹے بھائی مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے چیرے بھائیوں یعنی مرزا نظام الدین وغیرہ کی حقیقی بہن عمر النساء بیاہی گئی تھی۔اس کے بطن سے محمدی بیگم پیدا ہوئی۔مرزا نظام الدین و مرزا امام الدین وغیرہ پرلے درجہ کے بے دین اور دہر یہ طبع لوگ تھے اور مرزا احمد بیگ مذکور ان کے سخت زیر اثر تھا اور انہیں کے رنگ میں رنگین رہتا تھا۔یہ لوگ ایک عرصہ سے حضرت مسیح موعود سے نشان آسمانی کے طالب رہتے تھے کیونکہ اسلامی طریق سے انحراف اور عنا در کھتے تھے اور والد محمدی بیگم یعنی مرزا احمد بیگ ان کے اشارہ پر چلتا تھا۔اب واقعہ یوں ہوا کہ حضرت مسیح موعود کا ایک اور چازاد بھائی مرزا غلام حسین تھا جو عرصہ سے مفقود الخبر ہو چکا تھا اور اس کی جائیداد اس کی بیوی امام بی بی کے نام ہو چکی تھی۔یہ امام بی بی مرزا احمد بیگ مذکور کی بہن تھی۔اب مرزا احمد بیگ کو یہ خواہش پیدا ہوئی کہ مسماۃ امام بی بی اپنی جائیداد اس کے لڑکے مرزا محمد بیگ برادر کلاں محمدی بیگم کے نام ہبہ کر دے لیکن قانو نا امام بی بی اس جائیداد کاهبه بنام محمد بیگ مذکور بلا رضامندی حضرت مسیح موعود نہ کر سکتی تھی اس لئے مرزا احمد بیگ با تمام عجز و انکساری حضرت مسیح موعود کی طرف ملتجی ہوا کہ آپ بہ نامہ پر دستخط کر دیں۔چنانچہ حضرت صاحب قریباً تیار ہو گئے لیکن پھر اس خیال سے رُک گئے کہ دریں بارہ مسنون استخارہ کر لینا ضروری ہے۔چنانچہ آپ نے مرزا احمد بیگ کو یہی جواب دیا کہ میں استخارہ کرنے کے بعد دستخط کرنے ہوں گے تو کر دوں گا چنانچہ اس کے بعد مرزا احمد بیگ کے متواتر اصرار سے استخارہ کیا گیا۔وہ استخارہ کیا تھا گویا آسمانی نشان کے دکھانے کا وقت آن پہنچا تھا جس کو خدا تعالیٰ نے اس پیرا یہ میں ظاہر کر دیا۔چنانچہ استخارہ کے جواب میں خدا وند تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود سے یہ فرمایا کہ اس شخص کی دختر کلاں کے نکاح کے لئے سلسلہ جنبانی کر اور ان کو کہہ دے کہ تمام سلوک اور مروت تم سے اسی شرط سے کیا جائے گا۔اور یہ نکاح تمہارے لئے موجب برکت اور ایک رحمت کا نشان ہوگا اور ان تمام برکتوں اور رحمتوں سے حصہ پاؤ گئے جو اشتہار ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء میں درج ہیں۔لیکن اگر نکاح سے انحراف کیا تو اس لڑکی کا انجام نہایت ہی برا ہوگا اور جس کسی دوسرے شخص سے بیاہی جاوے گی وہ روز نکاح سے