سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 103
سیرت المہدی 103 حصہ اوّل اڑھائی سال تک اور ایسا ہی والد اس دختر کا تین سال تک فوت ہو جائے گا اور ان کے گھر پر تفرقہ اور تنگی اور مصیبت پڑے گی اور درمیانی زمانہ میں بھی اس دختر کے لئے کئی کراہت اور غم کے امر پیش آئیں گے۔“ 66 اس وحی الہامی کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے نوٹ دیا کہ تین سال تک فوت ہونا روز نکاح کے حساب سے ہے مگر یہ ضروری نہیں کہ کوئی واقعہ اور حادثہ اس سے پہلے نہ آوے۔بلکہ مکاشفات کے رو سے مکتوب الیہ ( یعنی مرزا احمد بیگ) کا زمانہ حوادث جن کا انجام معلوم نہیں نزدیک پایا جاتا ہے۔واللہ اعلم “ جب استخارہ کے جواب میں یہ وحی ہوئی تو حضرت مسیح موعود نے اسے شائع نہیں فرمایا بلکہ صرف ایک پرائیویٹ خط کے ذریعہ سے والد محمدی بیگم کو اس سے اطلاع دے دی کیونکہ آپ کو یقین تھا کہ وہ اس کی اشاعت سے رنجیدہ ہو گا لہذا آپ نے اشاعت کے لئے مصلحتا دوسرے وقت کی انتظار کی۔لیکن جلد ہی خودلڑکی کے ماموں مرزا نظام الدین نے شدت غضب میں آکر اس مضمون کو آپ ہی شائع کر دیا اور علاوہ زبانی اشاعت کے اخباروں میں بھی اس خط کی خوب اشاعت کی۔تب پھر حضرت مسیح موعود کو بھی اظہار کا عمدہ موقعہ مل گیا۔128 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ ہمارے آباء میں سے وہ بزرگ جو ابتداء ہندوستان میں آکر آباد ہوئے ان کا نام مرزا ہادی بیگ تھا۔ان کے ہندوستان میں آکر آباد ہونے کا زمانہ ۱۵۳۰ء کے قریب کا معلوم ہوتا ہے یعنی ایسا پتہ چلتا ہے کہ یا تو وہ بابر بادشاہ کے ساتھ آئے تھے یا کچھ عرصہ بعد۔مرزا ہادی بیگ صاحب حاجی برلاس کی اولاد میں سے تھے جو تیمور کے چچا تھے۔مرزا ہادی بیگ سے لے کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام تک کا شجرہ نسب مشمولہ ورق پر درج ہے۔