سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 62
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 62 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ہوں۔‘ (48) حضرت عمر کامل موحد انسان تھے۔ایک دفعہ حج کے موقع پر حجر اسود کو بوسہ دیتے ہوئے اس کا یوں اظہار کیا " اے حجر اسود میں تجھے بوسہ تو دے رہا ہوں مگر خوب جانتا ہوں کہ تو محض ایک پتھر ہے اور خدا کی قسم اگر میں نے رسول خدا کو بوسہ دیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو تجھے ہرگز بوسہ نہ دیتا۔‘ (49) خدا کی خاطر شمشیر برہنہ بے شک حضرت عمر طبعاً کچھ سخت گیر واقع ہوئے تھے اور جس بات کو نا جائز سمجھتے تھے، اس کے لئے آپ شمشیر بے نیام کی طرح سامنے آجاتے تھے اور اس کا کھل کر اظہار کرتے تھے۔بار ہادر بار رسالت میں ایسے واقعات ہوئے۔چنانچہ سفر فتح مکہ کے موقع پر جب صحابی رسول حاطب بن ابی بلتعہ نے قریش کے نام ایک مخفی چٹھی کے ذریعہ اس سفر کی اطلاع دینے کی کوشش کی اور آنحضرت کو بذریعہ وحی اطلاع ہونے پر حاطب کو پکڑ لیا گیا۔تو حضرت عمرؓ نے حضور ﷺ کے سامنے عرض کیا کہ یہ شخص منافق ہے مجھے اجازت دیں کہ میں اسے قتل کر دوں۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ نہیں اے عمر یہ بدر میں شامل ہوا تھا اور اللہ تعالیٰ نے اہل بدر کی بخشش کا اعلان فرمایا ہے۔اسی طرح عبد اللہ بن ابی بن سلول منافقین کے سردار کے جنازہ کے موقع پر ہوا۔حضرت عمر کہتے ہیں کہ نامعلوم مجھے یہ جرات کہاں سے آئی تھی کہ میں حضرت محمد ﷺ کا دامن پکڑ کر کھڑا ہو گیا اور یہ عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! اس کا جنازہ مت پڑھائیں اس نے فلاں دن فلاں موقع پر حضور کے خلاف نا پسندیدہ بات کی تھی۔آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ نہیں میں اس کا جنازہ پڑھاؤں گا۔حضرت عمرؓ دلیل دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ سے فرمایا ہے کہ اِسْتَغْفِرْ لَهُمْ أَوْلَا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ إِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِينَ مَرَّةً فَلَنْ يَغْفِرَ اللهُ لَهُمْ (التوبہ: 80) یعنی ” آپ ان کے لئے بخشش مانگیں یا نہ مانگیں۔ستر مرتبہ بھی بخشش مانگیں تو اللہ تعالیٰ ان کو ہرگز نہیں بخشے گا۔‘رسول اللہ علہ نے اس آیت کی تلاوت کرتے ہوئے فرمایا اے عمر میں ستر سے زیادہ مرتبہ اس کے لئے استغفار کر لوں گا۔اور پھر حضور نے عبداللہ بن ابی بن سلول کا جنازہ پڑھایا۔(50)