سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 61
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ابر رحمت تیرے پاس آتا ہے ! (44) خشیت الہی اور توحید پرستی 61 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ حضرت عمر انتہائی خدا ترس انسان تھے۔ایک دفعہ کسی باغ میں گئے اور تنہائی میں اپنے آپ سے مخاطب ہو کر کہنے لگے۔واہ! عمر بن الخطاب تو امیر المؤمنین ہو گیا ہے! خدا کی قسم اے خطاب کے بیٹے ! تمہیں تقویٰ اختیار کرنا ہو گاور نہ اللہ تمہیں عذاب دے گا۔“ حضرت عمر قرآن شریف کی تلاوت نہایت بصیرت غور اور تدبر سے کرتے تھے۔قرآن کے بڑے عالم تھے۔نماز میں ان آیات کی بالخصوص تلاوت فرماتے جو اللہ تعالیٰ کی عظمت و جلال اور حشر و نشر کے مضمون پر مشتمل ہوتی تھیں۔تلاوت کرتے وقت ایسی خشیت اور ہیبت آپ پر طاری ہوتی کہ مسلسل روتے جاتے بسا اوقات آپ کی ہچکی بندھ جاتی۔صحابہ بیان کرتے ہیں کہ سورۃ یوسف کی آیات إِنَّمَا اشْكُوا بَى وَحُزْنِ إِلَى اللهِ پڑھتے ہوئے بعض اوقات آپ پر ایسی قلبی رقت طاری ہوتی کہ رونے کی آواز پچھلی صفوں میں سنی جاتی تھی۔مؤاخذہ کا خوف آپ کو اس قد رتھا کہ کہا کرتے تھے کہ میرا تو دل چاہتا ہے کہ کاش برابر میں ہی چھوٹ جاؤں اور مجھ سے کوئی مواخذہ نہ ہو خواہ کوئی انعام نہ ہی دیا جائے۔‘‘ (45) ایک دفعہ حضرت عمرؓ نے درہ اُٹھا کر کسی کو پکارا۔اس نے کہا میں آپ کو اللہ کے نام کی نصیحت کرتا ہوں۔انہوں نے درہ پھینک دیا اور کہا تم نے بہت بڑے نام کی نصیحت کی۔“ (46) صحابہ رسول اللہ علیہ حضرت عمرؓ کی معیت اس لئے اختیار کرتے تھے تاکہ ان سے تقویٰ کی را ہیں سیکھیں۔(47) دل میں اللہ تعالیٰ کا ایسا خوف تھا۔ایک بار ایک تنکا اُٹھا کر کہنے لگے ” کاش میں اس تنکے کی طرح خس و خاشاک ہوتا۔کاش میں پیدا ہی نہ ہوا ہوتا۔“ ہمیشہ خدا کے خوف سے لرزاں وترساں اور اسکی رحمت سے پر امید رہتے۔فرمایا کرتے اگر آسمان سے آواز آئے کہ صرف ایک آدمی جہنم میں جائے گا تو مجھے اس بات کا اندیشہ اور ڈر ہوتا کہ کہیں وہ ایک میں ہی تو نہیں ہوں اور اگر کسی ایک آدمی کے جنت میں جانے کی آواز آئے تو میں خدا تعالیٰ سے امید اور توقع کروں گا کہ شاید وہ میں ہی