سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 51 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 51

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 51 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ہوئے۔عراق میں اسلامی فوجیں برسر پیکار تھیں۔ان فتوحات کی تکمیل ان کے عہد میں ہوئی۔اس زمانے میں ایران سے بھی جنگ شروع ہو چکی تھی۔آپ خود اس کی قیادت کرنے کے لئے مدینہ سے روانہ بھی ہو گئے مگر بعض صحابہ کے مشورے پر واپس تشریف لائے۔تاہم اپنی ذاتی نگرانی میں عراق، ایران ، شام کی مہمات مکمل کروائیں۔ان کے دس سالہ دور خلافت میں عراق و شام اور ایران و مصر میں اسلامی جھنڈا لہرانے لگا۔آرمینیا، آذربائی جان اور جزائر بھی اسی دور میں فتح ہوئے۔(17) عراق و شام کی فتوحات حضرت خالد بن ولید کی قیادت میں ہوئیں ، جنہیں رسول خدا کے نے سیف اللہ یعنی اللہ کی تلوار کا خطاب دیا تھا۔حضرت عمرؓ ان کی فن حرب کی صلاحیتوں اور شجاعت کے معترف تھے۔انہیں کئی معرکوں کا قائد مقرر فرمایا لیکن جب محسوس کیا کہ خلافت کے ادنیٰ اور مخلص غلام خالد کے بارہ میں لوگوں میں غلط فہمی پیدا ہورہی ہے تو ان کی جگہ حضرت ابوعبیدہ کو سالا رلشکر مقرر فرمایا۔حضرت خالد اطاعت کا بے مثال مظاہرہ کرتے ہوئے ایک سپاہی کی حیثیت سے بدستور بہادری کے جوہر دکھاتے رہے۔حضرت عمر نے یہ ارشاد فرما کر حضرت خالد کو ہر الزام سے بری قرار دیا ہے کہ ” میں نے تمہیں کسی شبہ کی بناء پر امارت سے معزول نہیں کیا بلکہ تمہارے بارہ میں لوگوں کی رائے میں خوش فہمی غالب ہونے سے اندیشہ ہوا کہ وہ تمہیں گمراہ نہ کر دے۔اسی طرح فرمایا کہ ”میں نے خالد کو اسلئے معزول کیا تا معلوم ہو کہ اللہ اپنے دین کی خود مددفرماتا ہے۔“ (18) حضرت عمرؓ کے عہد میں قادسیہ میں ایرانیوں سے فیصلہ کن جنگ ہوئی۔شام کی فتوحات کا آخری فیصلہ بر موک میں ہوا۔حضرت عمرؓ اس فتح کی خبر سنتے ہی سجدہ شکر بجالائے تھے۔فتح بیت المقدس کے موقع پر عیسائیوں کے اسقف ( مذہبی سر براہ اعلیٰ ) کی اس خواہش پر کہ امیر المؤمنین خود تشریف لاکر معاہدہ صلح کریں۔حضرت عمر نے ۱۶ھ میں بیت المقدس کا سفر اختیار کیا اور یوں اس تاریخی فتح کی تکمیل ہوئی۔شہادت عمر حضرت عمر کی شہادت کے بارہ میں بھی رسول کریم ﷺ نے پیشگی خبر دیدی تھی۔جب احد