سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 512 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 512

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 512 حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کہ اس کے والد نے اسے اس گرجا میں جانے کی وجہ سے مارا ہے۔اس نے کہا کہ تم بھی کبھی گرجے آؤ تو بہت خوبصورت باتیں سنو گے۔چنانچہ اس کے ساتھ مجھے بھی گر جا جانے کا موقع ملا۔دراصل جب سے میں نے ہوش سنبھالی میرے دل میں اللہ تعالیٰ نے جستجو پیدا کر دی کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا ہے؟ اس راہب سے ہم نے آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور جنت و جہنم اور بہترین مذاہب کے بارے میں پوچھا اس نے کہا کیا تم اپنا دین چھوڑو گے؟ میں نے کہا ہاں اگر وہ افضل دین ہو اور آسمان وزمین کے خالق کا پتہ دے۔الغرض اس نے ہمیں بہت عمدہ جواب دئے۔میں اس کے پاس زیادہ آنے جانے لگا، میرے ساتھی طالب علموں کو پتہ چلا تو وہ بھی ساتھ آنے لگے۔ہماری بستی والوں نے یہ دیکھا تو انہوں نے نصرانی سے کہا کہ اگر چہ تم اچھے ہمسائے ہو مگر ہمیں اپنے بچوں کے بارہ میں خوف ہے کہ تم انہیں دین کے بارہ میں فتنہ میں نہ ڈال دو اس لئے یہاں سے کوچ کرو۔جاتے ہوئے راہب نے اس لڑکے کو بھی ساتھ لے جانا چاہا مگر اس نے والدین کی وجہ سے مجبوری ظاہر کی۔ہم نے رامہرمز پہاڑ سے پیدل سفر شروع کیا راستہ میں اللہ پر توکل کرتے اور درختوں کے پھل کھاتے ہوئے گزارا کیا اور جزیرہ پہنچے پھر صیبین آئے میرے ساتھی راہب نے کہا کہ یہاں کچھ عبادت گزار لوگ آباد ہیں جن سے ملاقات کرنا چاہتا ہوں ہم اتوار کے دن ان کے پاس گئے تو ملاقات ہوئی۔وہ ہمارے ساتھی کو دیکھ کر بہت خوشی سے ملے اور لمبا عرصہ غیر حاضر رہنے کا پوچھا اس نے بتایا کہ ایران میں بعض بھائیوں سے ملنے گیا تھا۔راہبوں کے ساتھ وہاں سے چلنے لگے تو میں نے کہا مجھے انہیں لوگوں کے پاس چھوڑ دیں انہوں نے کہا آپ ان جیسی طاقت نہیں رکھتے۔یہ تو اتوار سے اگلے اتوار تک ہفتہ کا روزہ رکھتے ہیں اور پوری رات جاگتے ہیں۔ان میں ایک نوجوان کسی بادشاہ کا بیٹا بھی تھا جو حکومت و دولت چھوڑ کر رہبانیت اختیار کر چکا تھا۔اب میں ان کے ساتھ رہنے لگا۔شام ہوئی تو شاہی خاندان کے اس نوجوان نے کہا یہ نو عمر لڑ کا ہلاک ہو جائے گا ،مناسب ہے کہ تم میں سے کوئی شخص اسے اپنے زیر تربیت رکھ لے۔سب نے کہا کہ تم ہی اسے اپنے ساتھ رکھ لو۔تب انہوں نے مجھے کہا اے سلمان ! یہ روٹی ہے اور یہ سالن۔جب