سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 473 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 473

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 473 حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ اللہ بن رواحہ کبھی گھر سے باہر نہیں جاتے تھے جب تک کہ دو رکعت نفل نماز ادا نہ کر لیں اسی طرح جب گھر میں داخل ہوتے تھے آپ کا پہلا کام یہ ہوتا تھا کہ وضو کر کے دو رکعت نفل نماز ادا کیا کرتے (20) حضرت عبداللہ کی دیگر عبادات کا بھی یہی حال تھا نفلی روزے رکھنے کا مجاہدہ بھی دوسروں سے بڑھ کر کرتے تھے حضرت ابو درداء بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ ہم آنحضرت کے ساتھ رمضان کے مہینے میں ایک غزوہ کیلئے نکلے۔گرمی اتنی شدید تھی کہ ہم اپنے سروں کو گرمی سے بچانے کیلئے ہاتھوں سے ڈھانپتے تھے اور کسی کو یہ ہمت نہیں تھی کہ وہ اس شدید گرمی میں روزہ رکھ سکے سوائے نبی کریم اور حضرت عبد اللہ بن رواحہ کے۔اس سے آپ کی جفا کشی اور مجاہدے کا خوب اندازہ ہوتا ہے۔(21) اطاعت رسول اور پاکیزہ صحبت آنحضرت ﷺ کے ساتھ حضرت عبد اللہ بن رواحہ کی محبت اور اطاعت کا اندازہ آپ اس واقعہ سے کر سکتے ہیں جو حضرت ابولیلی بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ آنحضرت یہ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے اس دوران آپ نے فرمایا لوگو بیٹھ جاؤ حضرت عبداللہ بن رواحہ مسجد سے باہر خطبہ سننے کیلئے حاضر ہورہے تھے۔وہ وہیں پر بیٹھ گئے آنحضرت نے انہیں مخاطب کر کے فرمایا زَادَكَ الله حرصًا عَلَى طَوَاعِيَةِ اللهِ وَعَلَى طَوَاعِيَةِ رَسُوْلِهِ کہ اے عبداللہ بن رواحہ اللہ اور رسول کی اطاعت کا تمہارا یہ جذ بہ اللہ تعالیٰ اور بڑھائے۔(22) صحبت صالحین آخر میں حضرت عبد اللہ بن رواحہ کی ایک بہت ہی پیاری خوبی کا بیان ضروری ہے کہ آ۔صالحین کی صحبت بہت پسند کرتے اور اس کی خواہش رکھتے تھے۔بطور خاص نیک لوگوں کی مجالس منعقد کیا کرتے تھے۔چنانچہ حضرت ابو درداء بیان کرتے تھے کہ میں اس بات سے اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہتا ہوں کہ میرے اوپر کوئی ایک ایسا دن آئے جب میں حضرت عبداللہ بن رواحہ کو یا د نہ کروں۔ہر روز میں ان کو یاد کرتا ہوں اور اس کی وجہ ان کی یہ خوبی ہے کہ حضرت عبد اللہ بن رواحہ کی جب بھی