سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 444
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 444 حضرت ابودجانہ انصاری رضی اللہ عنہ بڑائی کا ایسا اظہار اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں لیکن آج میدان جنگ میں دشمن کے مقابل پر ابودجانہ کے اکٹر کر چلنے کی یہ ادا خدا تعالیٰ کو بہت پسند آئی ہے۔(4) الغرض اُحد میں حضرت ابودجانہ کے ہاتھ میں رسول اللہ ﷺ کی عطا فرمودہ اس تلوار نے خوب خوب جو ہر دکھائے۔ولیم میور جیسے مستشرق کو بھی لکھنا پڑا کہ ” جب اپنی خود کے ساتھ سرخ رومال باندھے ابودجانہ ان پر حملہ کرتا تھا اور اس تلوار کے ساتھ جو اسے محمد نے دی تھی ، چاروں طرف گویا موت بکھیرتا جاتا تھا‘(5) اُحد سے واپسی پر حضرت علیؓ نے جب اپنی تلوار حضرت فاطمہ کے حوالے کی اور کہا کہ لو فاطمہ یہ میری تلوار سنبھالو اور دھو کر اسے رکھ دو کہ یہ تلوار کوئی ملامت والی تلوار نہیں ، قابل ستائش شمشیر ہے جس کے ذریعہ آج میں نے بھی حتی المقدور میدانِ اُحد میں حق شجاعت ادا کرنے کی کوشش کی۔آنحضرت نے سن کر تائید کرتے ہوئے فرمایا ہاں اے علی واقعہ تم نے آج جنگ کا حق ادا کر دیا اور تمہاری تلوار نے بھی۔مگر تمہارے ساتھ کچھ اور لوگوں نے بھی تو یہ حق ادا کیا ان میں حارث بن الصمہ بھی ہے۔ان میں ابودجانہ بھی شامل ہے جن کی تلواروں نے میدانِ اُحد میں کمال کر دکھایا۔(6) شہادت حضرت ابودجانہ کی شہادت حضرت ابو بکر کے زمانہ میں جنگ یمامہ میں ہوئی ہے۔اس موقع پر بھی نہایت ہی مردانگی اور شجاعت اور بہادری کے جوہر دکھاتے ہوئے آپ نے جان قربان کی۔اس جنگ میں مسیلمہ کذاب کے ساتھ جب مقابلہ ہوا تو وہ خود ایک باغ میں محصور تھا۔درمیان میں ایک بہت بڑی دیوار حائل تھی۔قلعہ کے دروازے بند تھے اور مسلمانوں کو کچھ سمجھ نہیں آتی تھی کہ وہ کس طرح سے اس باغ کے اندر داخل ہوں اور قلعہ کو کیسے فتح کیا جائے؟ اس موقع پر ابودجانہ کو ایک تدبیر سوجھی۔انہوں نے مسلمانوں سے کہا کہ مجھے میری تلوار سمیت اُٹھا کر اس باغ کے اندر پھینک دو، مسلمانوں نے ان کی اس خواہش کے مطابق انہیں دیوار کی دوسری طرف پھینک دیا، ابودجانہ دشمن کے اس دوسری طرف پہنچ تو گئے جہاں دوسرے مسلمان پہنچ نہیں پارہے تھے لیکن دیوار سے پھینکے جانے کی وجہ سے ان کی ٹانگ کی ہڈی ٹوٹ گئی۔اس زخم کے باوجود آپ قلعہ کے بڑے