سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 403
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 403 حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ درود پڑھو۔چاہو اس سے زیادہ بھی پڑھ سکتے ہو۔حضرت ابی نے حوصلہ پاکر عرض کیا یا رسول اللہ اگر اپنی دعا سے آدھا وقت درود پڑھوں تو کیا یہ مناسب ہوگا۔حضور نے فرمایا ” جتنا چاہو پڑھو۔اس سے زیادہ پڑھ لوتو اور اچھا ہے۔ابی نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺہ اگر میں دعا میں دو تہائی حصہ درود شریف میں گزار دوں تو کیسا ہے؟ فرمایا جتنا چاہو پڑھو اور چاہو تو اس سے بھی زیادہ پڑھ سکتے ہو۔تب حضرت ابی کے دل کی تمنا ان کی زبان پر آگئی عرض کیا یا رسول اللہ میرا تو دل کرتا ہے کہ میں اپنی دعا میں صرف درود ہی پڑھتا رہوں۔حضور نے فرمایا ”اگر تم اپنی دعا کا زیادہ وقت درود میں گزارو گے تو اللہ تعالیٰ تمہارے ہم و غم کا خود متکفل ہو جائے گا۔تمہارے تمام گناہ بخشے جائیں گے اور یہ بات خدا کے حضور تمہارے لئے بلندی درجات کا موجب ہوگی۔‘ (15) حضرت ابی بن کعب کو قرآن شریف سے بھی بہت محبت تھی۔روایات میں آتا ہے آپ ایک ہفتہ میں قرآن شریف کا دور مکمل کر لیا کرتے تھے۔(16) علم قرآن ایک موقع پر حضرت ابی نے حضرت عمرؓ سے عرض کیا کہ آپ جانتے ہیں کہ جب آپ موجود نہیں ہوتے تھے۔میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر اکتساب علم کرتا تھا۔حضرت عمرؓ نے فرمایا اللہ نے آپ کو علم عطا فرمایا ہے پس آپ لوگوں کو علم سکھایا کریں۔چنانچہ آپ باوجود اپنی مصروفیات عبادت کے لوگوں کی تعلیم کی خاطر وقت نکالا کرتے تھے۔حضرت ابی کی قرآت رسمی نہیں ہوتی تھی بلکہ آپ گہری نظر اور تدبر سے قرآن شریف پڑھتے تھے۔ایک دفعہ ایک شخص نے آپ سے سوال کیا کہ قرآن شریف کی آیت لَا يَحِلُّ لَكَ النِّسَاءِ من بَعْدُ ( الاحزاب: 53) یعنی اس کے اور تیرے لئے اور عورتیں جائز نہیں اور نہ یہ کہ ان کے بدلے تو اور بیویاں کرلے۔کے مطابق آنحضرت کو اپنی موجود بیویوں کے علاوہ کسی اور سے نکاح کی اجازت نہیں تھی۔اگر حضور کی یہ ازواج مطہرات آپ کی زندگی میں فوت ہو جاتیں تو کیا پھر بھی یہ ممانعت قائم رہتی۔حضرت ابی نے جواب دیا کہ قرآن شریف کی ایک اور آیت کے مطابق آنحضور کو اس صورت میں نکاح کا حق حاصل تھا۔حضرت ابی بن کعب کی نظر غالبا اس آیت پر ہوگی وهَبَتْ