سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 404
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 404 حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نَفْسَهَا لِلنَّبِيِّ اِنْ اَرَادَ النَّبِيُّ أَنْ يَسْتَنْكِحَهَا خَالِصَةً لَكَ مِنْ دُونِ الْمُؤْمِنِينَ (الاحزاب: 51) یعنی اگر کوئی عورت اپنے آپ کو نبی کے لئے ہبہ کردے اور نبی اس سے نکاح کرنا چاہے تو کر سکتا ہے۔یہ اجازت عام مومنوں کے لئے نہیں صرف نبی کیلئے خاص ہے۔(17) سورۃ سجدہ کی آیت ہے وَلَنُذِيقَلَهُمْ مِنَ الْعَذَابِ الْأَدْلى دُونَ الْعَذَابِ الْأَكْبَرِ (السجدہ :22)۔یعنی ہم ان کو قریب کا عذاب چکھائیں گے بڑے عذاب سے پہلے۔اس کی تفسیر حضرت ابی یہ کرتے تھے کہ قریب کے عذاب سے مراد دنیا کے مصائب ہیں جو اس دنیا میں ان پر وارد ہوتے ہیں۔(18) امانت و دیانت حضرت ابی صدق اور راستی پر قائم اپنے عہدوں اور امانتوں کے حق ادا کرنے والے تھے۔آنحضرت ﷺ نے ایک موقع پر آپ کو محصل زکوۃ مقرر فرما کر مدینہ کے نواحی قبائل بنی عذرہ اور بنی سعد میں بھجوایا۔حضرت ابی بیان کرتے ہیں کہ میں نے وہاں جا کر ز کوۃ وصول کی۔واپسی پر مدینہ کے قریب ایک ایسے مخلص مسلمان سے واسطہ پڑا جس کے تمام اونٹوں پر ایک ایک سالہ اونٹنی زکوۃ میں بنتی تھی۔میں نے اس سے کہا کہ یک سالہ اونٹنی دے دو۔اُس نے کہا آپ یک سالہ اونٹنی لے کر کیا کرو گے؟ نہ تو اس پر سوار ہوا جائے نہ بوجھ لادا جائے۔میں آپ کو زکوۃ میں بڑی عمر کی بہتر اونٹنی دے دیتا ہوں جو کسی کام بھی آئے۔حضرت ابی بن کعب جو آنحضرت کے تربیت یافتہ تھے۔کہنے لگے میں تو محض ایک امین ہوں۔مجھ سے یہ نہ ہوگا۔ادھر وہ مخلص بھی اپنے اخلاص اور قربانی پر مصر تھا۔انہوں نے کہا کہ پھر تم خود آکر حضور کی خدمت میں اونٹنی پیش کر دو۔میں تو حق کے مطابق ہی لوں گا۔چنانچہ وہ صحابی حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ یہ آپ کا متصل ہمارے پاس آیا۔میں اپنے حق سے بڑھ کر زکوۃ دینا چاہتا تھا مگر انہوں نے قبول نہیں کی۔حضور ان کی قربانی پر خوش ہوئے۔اور فرمایا " اگر آپ خوش دلی سے ایسا کرنا چاہتے ہو تو اللہ تعالیٰ تمہیں اس کا بہت زیادہ اجر عطا فرمائے گا اور اسطرح حضور نے ان کی یہ قربانی قبول فرمائی۔(19) حضرت ابی بن کعب ایک بلند پایہ عالم انسان تھے۔کئی صحابہ ان سے احادیث روایت کرتے