سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 359 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 359

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 359 حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ اس فیصلہ سے حضرت سعد کی دعا کا وہ حصہ بھی پورا ہو گیا کہ بنو قریظہ کے فتنہ کے خاتمہ سے پہلے مجھے موت نہ آئے۔اللہ تعالیٰ نے اس فتنہ کی سرکوبی انہیں کے ہاتھ سے کروائی۔اب حضرت سعد اپنے مولیٰ سے راضی برضا وا پسی کیلئے ہمہ تن تیار تھے۔آخری سفر فیصلہ بنوقریظہ کے بعد حضرت سعد اپنے خیمہ میں ہی زیر علاج تھے کہ ایک رات اچانک زخم پھوٹ پڑا اور خون بہ کر ساتھ کے خیمہ میں جانے لگا۔انہوں نے پتہ کروایا تو معلوم ہوا کہ حضرت سعد کے زخم سے خون جاری تھا۔(13) نبی کریم ﷺ کو خبر ہوئی تو اپنے وفاشعار ساتھی کو دیکھنے خود تشریف لائے۔آپ نے حضرت سعد کا سر اپنی گود میں رکھا۔جسم سے بہنے والا خون رسول کریم پر گرنے لگا مگر آپ اس سے بے پرواہ ہوکر حضرت سعد کیلئے دعائیں کر رہے تھے۔اور یہ معلوم کر کے کہ یہ سعد کا آخری وقت ہے انہیں الوداع کہہ رہے تھے۔آپ نے دعا کی کہ اے اللہ ! سعد نے تیری راہ میں جہاد کیا اس نے تیرے رسول کی تصدیق کی اور اپنے اوپر عائد ہونے والی ذمہ داری ادا کی۔پس اس کی روح کو اس طرح قبول کرنا جس طرح کوئی بہترین روح تیرے حضور قبول کی گئی۔گویا اس کا آخری سفر رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً ہو اور شایان شان استقبال ہو۔اس دعا کے شرف قبولیت کا ذکر آگے آ رہا ہے۔حضرت سعد نے اپنے آقا کے محبت بھرے دعائیہ الفاظ سنے تو عالم شوق میں آنکھیں کھولیں اور رسول اللہ کے چہرہ پر آخری نظریں ڈال کر عجب وارفتگی میں کہا السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمَّا إِنِّي أَشْهَدُ اَنَّكَ رَسُولُ اللهِ “ (14) کہ اے اللہ کے رسول ! ( میرے محبوب ) آپ پر سلام۔بس میری تو آخری گواہی یہی ہے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں یہ کہا اور جان جاں آفریں کے سپرد کردی۔سعد کی وفات کا صدمہ اور غم حضرت ابو بکر اس جانثار بھائی کی ناگہانی موت پر درد بھرے دکھ کا بلند آواز سے اظہار کر بیٹھے