سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 341 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 341

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 341 حضرت اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ تھے اس کے مطابق اپنا سب کچھ حضور کی خدمت میں پیش کر دیا۔رسول اللہ اللہ کے قیام کیلئے ہر صحابی اپنا گھر پیش کر رہا تھا۔حضور نے فرمایا کہ میری اونٹنی کو چھوڑ دو۔اسے جہاں حکم ہو گا رک جائے گی اور انہی لوگوں کا میں مہمان ہونگا۔اونٹنی جہاں رکی وہاں سے قریب ترین گھر حضرت ابو ایوب انصاری کا تھا جہاں حضور نے قیام فرمایا اور چھ ماہ تک وہاں فروکش رہے۔لیکن حضرت اسعد بن زرارہ نے یہ خیال کر کے حضور کی خدمت کی ازلی سعادت تو اب حضرت ابوایوب انصاری کے حصہ میں آگئی تو میں کسی اور ذریعہ سے حضور کی کوئی خدمت کرلوں۔چنانچہ حضور کی اونٹنی کی باگ انہوں نے پکڑ لی اور اسے اپنے گھر لے کر گئے اور اس کی خدمت کی توفیق انہیں کوملتی رہی۔(7) آنحضرت ﷺ کے عاشق صادق تھے۔مخیر لوگوں میں ان کا شمار تھا۔اپنے قبیلے کے رئیس اور سردار بھی تھے۔اس زمانے میں جب آنحضرت ﷺ ہجرت کر کے مدینہ آئے تو سب کچھ چھوڑ کے آگئے تھے مدینے میں نئی جگہ آباد کاری کی کئی ضروریات سامنے تھیں۔حضرت اسعد بن زرارہ نے اسی موقعہ پر حضور کی خدمت میں حسب ضرورت وہ تحفہ پیش کیا ہوگا جس کا احادیث میں ذکر آتا ہے کہ آنحضور کے گھر میں بہت عمدہ خوبصورت قسم کا پلنگ تھا جس کے پائے ہاتھی دانت کے بنے ہوئے تھے اور جو حضرت اسعد بن زرارہ نے بطور تحفہ آنحضرت کی خدمت میں پیش کیا تھا۔(8) رسول کریم ﷺ کی مدینہ تشریف آوری پر جب مسلمانوں کیلئے مسجد کے قیام کی ضرورت پیدا ہوئی تو وہی احاطہ جو کھل اور کھیل کا تھا وہاں مسجد نبوی تعمیر کرنے کی تجویز ہوئی حضرت اسعد نے یہ مخلصانہ پیشکش کی کہ ان دونوں بچوں کو میں راضی کرلوں گا یہ زمین مسجد کیلئے قبول کر لی جائے اور اس کے عوض انہوں نے بنی بیاضہ والا اپنا باغ پیش کر دیا (9) آنحضرت ﷺ نے رقم دیے بغیر وہ قطعہ زمین قبول کرنے پر رضامندی نہیں فرمائی۔بیماری میں حضور علیہ کی شفقت حضرت اسعد بن زرارہ غزوہ بدر سے پہلے ہی بیمار ہو کر وفات پاگئے۔انکوایسی بیماری لاحق ہوگئی جس سے چہرہ اور جسم سرخ ہو جاتا ہے۔اس زمانے کے دستور کے مطابق اس بیماری کا علاج داغنے سے کیا جاتا تھا آنحضرت ﷺ کی مدینے ہجرت کے بعد حضرت اسعد وفات پانے والے پہلے