سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 333 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 333

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 333 حضرت خباب بن الارت رضی اللہ عنہ میں اس جیسے لوگوں کا ہی ذکر ملتا ہے۔اَفَرَتَيتَ الَّذِي كَفَرَ بِآتِنَا وَقَالَ لَا وَتَيَنَّ مَالاو وَلَدًا ( مریم : 78) کہ تم نے اس شخص پر غور کیا جو ہماری آیات کا انکار کرتا ہے اور کہتا ہے کہ اگلے جہاں میں مجھے اور مال و اولا د دئے جائیں گے۔دور قربانی اور حضرت عمر کی قدردانی حضرت خباب کو ہجرت مدینہ کی توفیق ملی تو حضرت کلثوم بن ھدم کے پاس آ کر ٹھہرے (اور بدر سے کچھ پہلے تک قیام کیا) پھر سعد بن عبادہ کے پاس کچھ عرصہ ٹھہرے۔آنحضرت کے ساتھ تمام غزوات بدر، احد اور خندق میں خدمات کی توفیق پاتے رہے۔حضرت عمرؓ کے زمانے میں ایک دفعہ حضرت خباب ان کی مجلس میں حاضر ہوئے تو انہوں نے حضرت خباب کو بلا کر اپنی خاص مسند پر بٹھایا اور فرمایا کہ ” خباب ! آپ اس لائق ہو کہ میرے ساتھ اس مسند پر بیٹھو۔میں نہیں دیکھتا کہ تم سے بڑھ کر اور اس جگہ میرے ساتھ بیٹھنے کا کوئی مستحق ہو سوائے بلال کے کہ انہوں نے بھی اس ابتدائی زمانے میں اسلام قبول کر کے بہت تکلیفیں اٹھائیں۔“ حضرت خباب نے عرض کی اے امیر المومنین ! بے شک بلال بھی حق دار ہے لیکن واقعہ یہ ہے کہ بلال کو بھی مشرکین کے ظلم سے بچانے والے موجود تھے۔چنانچہ حضرت ابوبکر نے ان کو خرید کر آزاد کر دیا لیکن میرا تو کوئی بھی نہیں تھا جو مجھے ان کے ظلم سے بچاتا اور ایک دن مجھ پر ایسا بھی آیا کہ مجھے کافروں نے پکڑ لیا اور آگ جلا کر اس کے اندر جھونک دیا میں آگ میں پڑا ہوا تھا۔ایک ظالم نے میرے سینہ کے اوپر پاؤں رکھ دیا اور میرے لئے اس آگ سے بچنا ممکن نہ رہا۔میری پشت انگاروں پر پڑے پڑے جل گئی۔تب حضرت خباب نے اپنی پشت پر سے وہ کپڑا اٹھایا تو دیکھا گیا کہ کچھ سفید لکیروں کے نشان تھے انہوں نے بتایا کہ دہکتے کوئلوں سے ان کی چربی کے جلنے اور پگلنے کے نتیجہ میں یہ نشان پڑے تھے جو ہمیشہ کیلئے ان کی اذیتوں کے گواہ بن گئے۔(5) صبر ورضا حضرت خباب بیان کرتے تھے کہ ان تکلیفوں ، اذیتوں، دکھوں کے شکوے ہم کہاں کرتے