سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 332 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 332

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 332 حضرت خباب بن الارت رضی اللہ عنہ کوئلوں کی اس بھٹی پر جہاں وہ لوہے کا کام کرتے تھے آپ تشریف لے جاتے اور ان کی ہمت وڈھارس بندھایا کرتے۔حضرت خباب کی مالکہ اتم انمار کو پتہ چلا کہ آنحضرت یہاں بھی آتے ہیں تو اس نے حضرت خباب گو اور زیادہ تشدد کا نشانہ بنانا شروع کیا۔ان کی بھٹی کے انگاروں سے لوہے کی سلاخیں گرم کر کے وہ ان کا جسم داغا کرتی اور کہتی کہ اسلام کو چھوڑو گے یا نہیں؟ بالآخر انہوں نے آنحضرت ﷺ کے پاس شکایت کی تو نبی کریم نے ان کے حق میں یہ دعا کی اللَّهُم أَنصُر حَبًّا باً۔اے اللہ خباب کی نصرت فرما۔اس دعا کا اثر عجیب معجزانہ رنگ میں ظاہر ہوا اور اُم انمار کو اچانک شدید سر درد کے دورے پڑنے لگے۔یہ دورے اتنے سخت ہوتے کہ جانوروں کی طرح ام انمار کے چیخنے چلانے اور بلبلانے کی آوازیں بے اختیار نکلا کرتیں۔طبیبوں نے اس کا علاج یہ تجویز کیا کہ اس کا سرگرم لوہے سے داغا جائے۔عربوں میں اس زمانے میں آخری علاج کے طور پر داغنے کا رواج تھا۔یہ داغنے کی خدمت بھی حضرت خباب کے حصہ میں آئی۔اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کی دعا قبول کرتے ہوئے اس ظالم عورت سے حضرت خباب کا انتقام لینے کی عجیب راہ نکالی کہ حضرت خباب جنہیں وہ اسلام سے واپس لوٹانے کے لئے داغا کرتی تھی اب وہی خباب اسکے علاج کیلئے اس کا سر داغا کرتے۔یوں اسے احساس دلایا گیا کہ اس نے خباب کو کتنی تکلیف اور اذیت پہنچائی ہے۔اس کے بعد کبھی اس کی طرف سے خباب کو یہ دکھ دینے کا ذکر نہیں ملتا۔(4) قبول اسلام پر مالی ابتلا ءاور صبر حضرت خباب لوہے کی تلواریں اور دیگر چیزیں بناتے تھے۔مشرک سردار عاص بن وائل کو بھی انہوں نے ایک تلوار بنا کر دی تھی، جس کا معاوضہ اس نے ادا کرنا تھا لیکن جب بھی وہ قرض کا تقاضا کرتے ، وہ انکار کر دیتا۔ان کے قبول اسلام کے بعد خاص طور پر وہ یہ طنز کرتا کہ مجھ سے دنیا میں کیوں قرض مانگتے ہو تمہارے عقیدے کے مطابق تو موت کے بعد اگلا جہاں بھی ہے جہاں ہم سارے اکٹھے ہونگے وہاں اپنا قرض بھی لے لینا اور اگر یہیں قرض لینا ہے تو پہلے محمد کا انکار کرو۔جب تک انکار نہیں کرو گے اس وقت تک میں قرض نہیں دوں گا۔اس طرح حضرت خباب سے استہزاء کرتے ہوئے وہ ٹالتا تھا اور یہ قرض آخر تک اس نے ادا نہیں کیا۔قرآن شریف کی اس آیت