سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 316
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 316 حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ نماز جنازہ ادا کی اور فرمایا اس کی بخشش کی دعا کرو۔وہ تو دوڑتے ہوئے جنت میں داخل ہوا۔( یعنی جس شجاعت سے دوڑتے ہوئے آگے بڑھ کر جان دی ہے اللہ تعالیٰ نے بھی اپنی رضا کی جنتوں کے دروازے اس پر کھول دیئے ) اسی طرح رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں جنت میں داخل ہوا تو ایک خوبصورت لڑکی دیکھی جس کے حسن سے مجھے تعجب ہوا۔میں نے پوچھا یہ کس کی خادمہ ہے۔بتایا گیا کہ زید بن حارثہ کی ہے۔(19) خالد بن شمر بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت زید کی شہادت کی خبر نبی کریم ﷺ کو ہوئی اور آپ اپنے صحابہ کے پاس تشریف لائے تو حضرت زید کی صاحبزادی روتے ہوئے نبی کریم سے لپٹ گئیں حضور بھی رو پڑے۔یہاں تک کہ شدت غم سے اپنے اس حبیب کی جدائی میں روتے ہوئے آپ کی سسکی نکل گئی۔اس پر سعد بن عبادہ نے عرض کیا رسول اللہ یہ کیا ماجرا ہے؟ فرمایا یہ ایک حبیب کا اپنے محبوب سے اظہار محبت ہے۔رسول کریم نے فرمایا مجھے لوگوں میں سب سے زیادہ پیار اوہ ہے جس کے بارہ میں اللہ فرماتا ہے کہ اللہ نے اس پر انعام کیا ہے اور رسول نے بھی (یعنی زیڈ ) (20) سبحان اللہ! کیسا عظیم وہ عاشق صادق تھا جو اپنے پیارے خدام کی محبت کی ایسی لاج رکھتا تھا اور کتنا سعادت مند تھاوہ خادم رسول جو یہ مرتبہ بلند پا گیا کہ حبیب کبریاء کا حبیب ٹھہرا۔سچ تو یہ ہے اے زید! آپ صرف حضرت محمد مصطفی ﷺ کے ہی حبیب نہیں رہے بلکہ کل عالم کے حبیب ہو گئے ہیں۔ہاں! ہر اس عاشق رسول کے محبوب جو اپنے آقا و مولا پر اپنی جان اور اپنی روح اور اپنی ہر عزیز ترین چیز نچھاور کرنے کو تیار ہے اور محبت رسول ہے جس کے ایمان کا جزو ہے اور خدا کا رسول جسے اپنی اولا داور ماں باپ سے بھی زیادہ پیارا ہے۔-1 -3 -4 که ده ط من ه -5 حواله جات ابن سعد جلد 3 ص 41,42 ، اصابہ جز 3 ص 25 ابن سعد جلد 3 ص 41 ، استیعاب جلد 2 ص 116 ابن سعد جلد 3 ص 45 ، اصابه جز 3 ص 25 ترندی ابواب المناقب ذکر زید بن حارثه، منتخب کنز العمال بر حاشیہ جلد 5 ص 186 اصا به جز 3 ص 25 6 - مجمع الزوائد جلد نمبر 9 ص 274 منتخب کنز العمال جلد 5 ص186