سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 16 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 16

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 16 حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ 11ھ میں یہ حالات پیدا ہو گئے کہ مدینہ کو گردو نواح کے قبائل سے سخت حملہ کا خطرہ ہوا۔لشکر اسامہ کی روانگی کے بعد مدینہ میں لڑنے والوں کی تعداد بہت کم رہ گئی تھی اور مرکز اسلام کی حفاظت کا اہم مسئلہ در پیش تھا۔حضرت ابو بکر نے مدینہ کے ناکوں پر حضرت علی ، زبیر طلحہ عبداللہ بن مسعود کو مقرر کیا اور اہل مدینہ کو مسجد نبوی میں اکٹھا کر کے تقریر کی اور مدینہ پر حملہ کی صورت میں ہنگامی تیاری کا حکم دیتے ہوئے فرمایا یوں سمجھو دشمن صرف ایک دن کے فاصلے پر ہے۔“ اس خطاب کے تیسرے ہی دن مرتدین نے مدینہ پر حملہ کر دیا۔حضرت ابو بکر کو اطلاع ہوئی تو خودمدینہ میں موجود نفری کو لے کر اونٹوں پر سوار ہو کر نکلے۔وقتی طور پر یہ جوابی کاروائی دیکھ کر دشمن منتشر ہو گئے۔پھر واپس جا کر ذوالقصہ مقام پر یہ لوگ اکٹھے ہوئے۔حضرت ابو بکر مٹھی بھر لوگوں کے ساتھ خودان کے تعاقب میں نکلے۔صحابہ نے عرض کیا ” امیر المومنین ! آپ مدینہ میں ٹھہرمیں آپ کو کوئی گزند پہنچی تو سارا نظام درہم برہم ہوگا ہم حاضر ہیں۔حضرت ابو بکڑ نے کمال جرات اور حوصلہ سے فرمایا ” میں خود اس فتنہ کو ختم کرنے میں تمہارے ساتھ شریک ہونگا۔اس طرح مدینہ کے گردونواح میں جس قدر فتنے تھے آپ نے خود ان کو فر و کیا۔عرب کے دور دراز کے علاقوں میں الگ بغاوت ہو چکی تھی۔اہل یمن نے مسلمان عاملوں کو واضح خط لکھے کہ تم ہمارے ملک میں گھس آئے ہو۔اسے خالی کر دو اور جس قد را موال وغیرہ لئے ہیں وہ ہمارے حوالے کرو۔یمامہ میں مسیلمہ کذاب مدعی نبوت کا راج تھا۔جو دوسری دعویدار نبوت سجاح سے شادی کے بعد حق مہر میں کئی نمازیں معاف کر کے شراب اور زنا کو حلال قرار دیتا اور زکوۃ سے روکتا تھا۔وہ سجاح کے لشکر کے ساتھ مل کر مقابلہ کیلئے تیار تھا۔ایک اور مدعی نبوت طلیحہ بن خویلد بنی اسد میں تھا۔یہ تمام دعویدار اپنے اپنے لشکروں کے ساتھ مدینہ پر حملہ کرنے کیلئے تیار تھے۔دیگر مرتدین ان کے علاوہ تھے۔اس موقع پر صحابہ کے مابین بعض مرتدین کے ساتھ جہاد میں اختلاف رائے پیدا ہوا کیونکہ ان میں ایک طبقہ صرف زکوۃ سے انکار کر رہا تھا۔حضرت عمر کی رائے تھی کہ آنحضور ﷺ نے فرمایا ہے جو لا الہ الا اللہ کہتا ہے اس سے جنگ نہیں کرنی اور یہ لوگ صرف زکوۃ کے انکاری ہیں۔ان سے ہم کیوں جنگ کریں۔اس پر حضرت ابو بکڑ نے کمال عزم سے فرمایا۔