سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 15
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 15 حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ حضرت عبد اللہ بن مسعود اس صورتحال کا نقشہ یوں بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ علیہ کی وفات کے بعد ہماری حالت ایسی ہوگئی حِدنَا اَن نَّهْلِكَ لَو لَا أَن مَنَّ اللَّهُ عَلَيْنَا بِأَبِي بكرٍ کہ قریب تھا ہم تباہ و برباد ہو جاتے اگر اللہ تعالیٰ حضرت ابو بکر کے ذریعہ ہم پر احسان نہ فرماتا عین اس وقت جبکہ مرکز اسلام معاندین اور دشمنوں کے اندر گھرا ہوا تھا لشکر اسامہ کی روانگی کا ایک اور بہت بڑا امتحان در پیش آیا۔آنحضور ﷺ نے اپنی زندگی میں شامی سرحد سے فوج کشی کے خطرہ سے بچنے کیلئے ایک لشکر حضرت اسامہ کی سرکردگی میں تیار کیا تھا۔جس میں حضرت عمر اور دیگر بزرگ صحابہ بھی شامل تھے۔صحابہ نے عرض کیا اے امیر المومنین ! اس وقت تمام عرب پراگندہ ہے، کئی قبائل مرتد ہو گئے ، نبوت کے دعویداروں کے ساتھ مل کر مدینہ پر حملہ کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔خدا را! کچھ عرصہ کے لئے آپ اسامہ کے لشکر کو روک لیں۔پہلے ان قریبی دشمنوں کا مقابلہ کریں۔شامی سرحد تو دور ہے وہاں بعد میں لشکر بھجوایا جا سکتا ہے خدا تعالیٰ اپنے خلفاء کو کیا عجیب عظمت شان اور عزم و استقامت عطا کرتا ہے۔وہی ابو بکر جن کے بارہ میں کل تک کہا جار ہا تھا کہ ان کو نماز پڑھانے کیلئے نہ کہا جائے کہیں رقت سے رو نہ پڑیں۔آج حضرت عمر جیسا دل گردے والا انسان بھی ان سے آکر عرض کرتا ہے : یا حضرت! اسامہ کے لشکر کو روک لیں۔“ مگر خدا کا وہ کوہ وقارخلیفہ شیر کی طرح گرجتے ہوئے فرماتا ہے۔وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَو ظَنَنتُ أَنَّ الرِّبَاعَ تَحْطُفُنِي لَا نَفَرَ جَيشَ أَسَامَةَ كَمَا أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ - (38) ” خدا کی قسم ! اگر مجھے یقین ہو کہ درندے مدینہ میں آکر میرا جسم نوچ لیں گے۔تب بھی میں اسامہ کے اس لشکر کو ضر ور روانہ کروں گا، جسے بھیجوانے کیلئے خدا کے رسول محمد مصطفی ﷺ نے ارشاد فرمایا تھا۔حضرت ابو بکر نے اس لشکر کو خود شہر کے باہر جا کر روانہ فرمایا۔پھر حضرت ابو بکر مرتدین کی شورش کی طرف متوجہ ہوئے۔پہلے تمام عرب کے مرتدین کے نام آپ نے خطوط لکھے۔جن میں اطاعت قبول کرنے والوں سے صلح اور باغیوں سے جنگ کا اعلان تھا۔آپ نے ہدایت فرمائی کہ ہر مجمع میں میرا یہ خط پڑھ کر سنایا جائے۔“ مدینہ کی حفاظت