سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 253 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 253

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 253 حضرت ابو سلمہ بن عبد الاسد رضی اللہ عنہ اسلامی بھائی بنایا تھا بعد میں نبی کریم ﷺ نے ان کو ایک مکان بھی مدینہ میں عطا فر مایا۔غزوات میں شرکت اور قربانی رسول کریم ﷺ نے 2 ہجری میں غزوہ عشیرہ کے موقع پر حضرت ابوسلم کومدینہ کا امیر مقررفرمایا تھا۔حضرت ابن عباس بیان کرتے تھے کہ ابو سلمہ کے حق میں قرآن کی یہ آیت ہے فَأَمَّا مَن أُوتِيَ كِتُبَهُ بِيَمِينِهِ فَيَقُولُ هَاؤُمُ اقْرَءُ واكتبية (الحاقہ :20) گویا ابوسلمہ ان لوگوں میں سے ہیں جن کو اس آیت کے مطابق دائیں ہاتھ میں اعمال نامہ دیا جائے گا اور کہا جائے گا یہ تمہارا نیکیوں کا اعمال نامہ ہے اس کو پڑھو! اور ان کا بھائی سفیان بن عبد الاسد جو اسلام کی دشمنی میں پیش پیش تھا اس کے بائیں ہاتھ میں اعمال نامہ دیا جائے گا (5) حضرت ابوسلمہ بڑی بہادری کے ساتھ بدر میں شریک ہوئے ،احد میں بہادری سے لڑے اور زخمی ہو گئے بازو میں شدید قسم کا زخم آیا جس کا علاج مہینہ بھر جاری رہا بظاہر زخم مندمل ہوتا ہوا نظر آیا لیکن ہجرت کے قریبا پندرہ ماہ بعد آپ کو بنی اسد کی طرف ایک اور مہم پر قطن مقام کی طرف جانا پڑا۔(6) اس سفر سے چند دن کے بعد جب واپس لوٹے تو زخم دوبارہ ہرا ہو چکا تھا اس کے چند ماہ بعد ہی آپ کی وفات ہوگئی۔آنحضرت ﷺ کو ان سے بہت دلی محبت اور پیار تھا ان کی بیماری میں ان کی عیادت کیلئے حضور ﷺ ان کے پاس تشریف لے جاتے رہے بلکہ ان کے آخری وقت بھی آنحضرت مہ عیادت کیلئے ان کے ہاں تشریف لے کر گئے ہوئے تھے۔شفقت رسول اور تلقین صبر روایات میں ذکر ہے کہ ابوسلمہ کے گھر موجود خواتین اور حضور کے مابین پردہ حائل تھا ، بعض عورتوں کے رونے کی آوازیں آرہی تھیں۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اے عورتو! کیوں روتی ہو اور کیوں نا مناسب کلے اپنی زبان سے نکالتی ہو، یا درکھو ایسے وقت میں فرشتے بھی موجود ہوتے ہیں اور تم لوگ جو کچھ اپنی زبان سے کہتے ہو اس پر وہ آمین کہتے ہیں اس لئے بے صبری کی کوئی بات یا کلمہ زبان سے نکالنا مناسب نہیں۔“