سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 254
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 254 حضرت ابو سلمہ بن عبد الاسد رضی اللہ عنہ آنحضرت عل ابوسلمہ کے آخری لمحات میں اپنی محبت اور پیار کا اس طرح اظہار کیا کہ جب ان کی روح قفس عنصری سے پرواز کر رہی تھی اور آنکھیں پھٹی پھٹی نظر آ رہی تھیں۔آپ نے آگے بڑھ کر خود اپنے دست مبارک سے اپنے اس رضاعی بھائی اور ساتھی کی آنکھیں بند کیں اور دعا کی کہ اے اللہ ابوسلمہ گو بخش دے اور اس کا درجہ ہدایت یافتہ لوگوں میں بلند کر اور بعد میں اس کے اچھے جانشین پیدا فرما اور اے رب العالمین اسے اور ہم سب کو بخش دے۔حضرت ابوسلمہ کی تدفین مدینہ میں ہوئی۔ان کی وفات کا سانحہ احد کے بعد 4 ہجری میں بیان کیا جاتا ہے۔آپ کی اولاد میں مسلمہ کے علاوہ عمر، زینب اور درہ تھیں زینب آپ کی وہ بیٹی ہے جو حبشہ کی ہجرت کے زمانہ میں پیدا ہوئی۔(7) حضرت ام سلمہ بیان کیا کرتی تھیں کہ ایک دفعہ ابوسلمہ انحضور ﷺ کی مجلس سے لوٹے تو بہت خوش تھے کہنے لگے میں نے آنحضرت ﷺ سے ایک حدیث سنی ہے کہ کسی بھی شخص کو جب کوئی مصیبت پہنچتی ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کے حضور یہ دعا کرتا ہے کہ اے اللہ ! اس مصیبت کا اجر اور بہترین بدلہ مجھے عطافرما تو اللہ تعالیٰ اس کا بہترین بدلہ اسے عطا کرتا ہے۔اور حضرت ام سلمہ فرماتی ہیں کہ یہ دعا میں نے حضرت ابو سلمہ سے سنی ہوئی تھی۔جب حضرت ابوسلمہ فوت ہو گئے تو مجھے ان کی یہ بات یاد آئی۔دوسری طرف آنحضرت نے بھی تشریف لا کر مجھے تحریک کی کہ اس موقع پر یہ دعا کرو کہ اے اللہ ! اس مصیبت میں مجھے صبر کی توفیق دے اور اس کا بہتر بدلہ مجھے عطا کر۔مگر ابوسلمہ مجھ سے ایسا حسن سلوک کرنے والے تھے کہ یہ دعا کرتے ہوئے میں نے دل میں سوچا کہ کیا ابوسلمہ سے بہتر بھی کوئی شخص ہو سکتا ہے؟ لیکن آنحضرت ﷺ کے ارشاد کی تعمیل میں میں نے یہ دعا کی اور پھر واقعہ اس کے بدلے میں اللہ تعالیٰ نے ان سے کہیں بہتر وجود یعنی آنحضرت علیہ مجھے عطا فرما دئے۔جب آنحضرت ﷺ کی طرف سے ام سلمہ کو نکاح کا پیغام گیا تو انہوں نے کچھ تر ڈو کے ساتھ بعض عذر پیش کئے کہ میں ایک غیور اور عمر رسیدہ عورت ہوں مجھے سوکن کو برداشت کرنا مشکل ہوگا۔دوسرے میری اولا دزیر کفالت ہے حضور ﷺ نے فرمایا کہ عمر آپ کی زیادہ ہے تو میری بھی زیادہ ہے۔اور غیور ہونے کی جہاں تک بات ہے تو اللہ تعالیٰ وہ نا واجب غیرت دعا سے دور کر دے گا۔باقی رہی آپ کی اولاد تو وہ ہماری بھی اولاد ہوگی آنحضور ﷺ نے جب انہیں ہر پہلو سے تسلی کرا دی تو بالآخر