سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 207 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 207

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 207 حضرت حمزہ بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ حضرت حمزہ نے اس روز خوب بہادری کے جوہر دکھائے۔یہ بہادر سور ماجدھر کا رخ کرتا ادھر موت کو بکھیرتا جاتا۔بدر میں قید ہونے والے مشرک قیدیوں نے بھی گواہی دی کہ ہمارے لشکر کا سب سے زیادہ نقصان اس شتر مرغ کی کلافی والے شخص یعنی حضرت حمزہ نے کیا ہے۔(12) غزوہ احد میں شجاعت غزوہ احد میں بھی حضرت حمزہ نے شجاعت کے کمالات دکھائے۔آپ کی یہ بہادری قریش مکہ کی آنکھوں میں سخت کھٹکی تھی۔یوں بھی غزوہ بدر میں حضرت حمزہ کے ہاتھوں قریش کا سردار طعیمہ بن عدی مارا گیا تھا۔اس کے عزیزوں نے اپنے غلام وحشی سے یہ وعدہ کیا کہ اگر تم ہمارے چچا کے بدلے حمزہ کوقتل کر دو تو تمہیں آزاد کر دیا جائے گا۔غزوہ احد میں سب سے پہلے مشرکین قریش کے نمائندے سباع بن عبد العزیٰ نے دست بدست جنگ کی دعوت دی۔سب سے پہلے خدا کا شیر حمزہ ہی اس کے مقابلے کیلئے آگے بڑھا اور اسے مخاطب کر کے کہا ”اے سباع ! ختنے کرنے والی ام انمار کے لڑکے! کیا تو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا دشمن ہو کر آیا ہے اور پھر پوری قوت سے اس پر حملہ آور ہو کر اس کا کام تمام کر دیا۔(13) الغرض احد میں عام لوگ ایک ایک تلوار سے لڑ رہے تھے مگر حضرت حمزہ کے ہاتھ میں دو تلواریں تھیں اور وہ آنحضرت ﷺ کے سامنے کھڑے ہو کر آپ کا دفاع کر رہے تھے اور یہ نعرہ بلند کر رہے تھے کہ میں خدا کا شیر ہوں۔کبھی آپ دائیں اور بائیں حملہ آور ہوتے تو کبھی آگے اور پیچھے۔اس حال میں آپ نے تمیں کفار کو ہلاک کیا۔حضرت جابر بیان کرتے ہیں جنگ احد میں جب اچانک حملہ سے لوگ پسپا ہوئے اور اس دوران میں نے حضرت حمزہ کو فلاں درخت کے پاس دیکھا۔آپ کہہ رہے تھے میں اللہ کے شیروں میں سے ایک شیر ہوں۔اے اللہ ! ان دشمنوں نے جو کچھ کیا میں اس سے براءت کا اظہار کرتا ہوں اور مسلمانوں کی پسپائی کیلئے معذرت خواہ ہوں۔اچانک ایک موقعہ پر آپ کو ٹھوکر لگی اور آپ پشت کے بل گر گئے۔وحشی آپ کی تاک میں تھا اسی وقت وہ آپ پر