سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 190 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 190

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 190 حضرت زبیر بن العوام رضی اللہ عنہ ہوئی تو انہوں نے فرمایا کہ زبیر کے قاتل کو جہنم کی خبر دے دو۔اس طرح حضرت علیؓ نے فرمایا کہ میں امید کرتا ہوں کہ طلحہ اور زبیر ان لوگوں میں سے ہیں جن کے حق میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ہے کہ۔وَنَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِمْ مِّنْ غِلَّ اِخْوَاناً عَلَى سُرُرٍ مُتَقبِلِينَ ( الحجر :47) کہ ہم ان (جنتیوں ) کے سینوں سے کینہ نکال باہر کریں گے۔وہ آمنے سامنے تختوں پر بیٹھے بھائی بھائی ہوں گے۔جنگ جمل میں کنارہ کشی کے باوجود بعض فتنہ پردازوں نے آپ کو سازش سے شہید کیا۔نیزہ کے پہلے حملہ کے بعد حضرت زبیر نے دفاع کیا تو حملہ آور کو اندازہ ہو گیا کہ وہ بچ نہیں سکے گا تب اس نے اللہ کا واسطہ دے کر امان چاہی تو آپ نے تلوار روک لی۔اس نے پھر ساتھیوں کی مدد سے آپ کو شہید کیا۔(21) حضرت زبیر کی وفات پر حضرت حسان بن ثابت نے اپنے اشعار میں ان کو خوب خراج تحسین پیش کیا ہے۔أَقَامَ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ وَهَدْيِهِ حَوَارِيُّه وَالقَولُ بِالفِعْلِ يَعْدِلُ هُوَ الفَارِسُ المَشْهُورُ وَالبَطَلُ الَّذِي يَصُولُ إِذَا مَا كَانَ يَوْمٌ مُحَجَّلُ إِذَا كَشَفَتْ عَنْ سَا قِهَا الْحَرُبُ حَشَّهَا بَا بَيَضَ سَبَّاقٌ إِلَى الْمَوتِ يَر مُل (22) یعنی که حواری رسول علیہ حضرت زبیر نے نبی کریم ﷺ کی سنت اور آپ کے عہد پر خوب قائم رہ کر دکھا دیا اور وہ قول کو فعل کے برابر کرتے تھے یعنی جو کہتے تھے اس پر عمل کرتے۔وہی مشہور شہ سوار اور بہادر انسان تھے کہ جب دن روشن ہوتا تو وہ حملہ آور ہوتے تھے۔( رات کو حملہ نہ کرتے) جب جنگ میں گھمسان کا رن ہوتا تو وہ اسے دہکا کر سفید کرتے اور دوڑتے ہوئے پہلے موت کی طرف بڑھنے کی کوشش کرتے۔حضرت زبیر بیان کرتے تھے کہ رسول کریم ﷺ نے میرے لئے اور میری اولاد کیلئے بھی دعا کی تھی۔رسول اللہ نے فرمایا تم میں سے جس کا واسطہ زبیر سے پڑے تو زبیر اسلام کا ستون