سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 189
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 189 حضرت زبیر بن العوام رضی اللہ عنہ صورت میں تھا۔رسول کریم ﷺ نے بھی آپ کو مدینہ میں ایک وسیع قطعہ برائے مکان اور بنی نضیر کی اراضی میں سے بھی ایک قطعہ زمین عطا فرمایا تھا۔(18) مقام حجرف اور وادی عقیق میں بھی آپ کی جاگیر تھی۔جو حضرت ابوبکر نے عطا کی تھی۔تربیت اولاد اولاد سے بہت محبت تھی۔اور ان کی تربیت کا بہت خیال رکھتے تھے۔اپنے نو بیٹوں کے نام بدر اور احد میں شہید ہونے والے بزرگ صحابہ کے نام پر رکھے جیسے عبداللہ حمزہ، جعفر۔اس تمنا کے اظہار کیلئے کہ خدا کی راہ میں قربان ہو جائیں۔( 19 ) اور ان میں بھی اپنی طرح شجاعانہ رنگ پیدا کرنا چاہتے تھے۔جنگ یرموک کے وقت حضرت عبداللہ بن زبیر کی عمر صرف دس سال تھی۔حضرت زبیر انہیں جنگ بدر میں ساتھ لے گئے اور گھوڑے پر سوار کر کے میدان جنگ میں ایک آدمی کے سپرد کیا۔تا کہ جنگ کے ہولناک مناظر دیکھ کر ان میں جرات پیدا ہو۔اسی تربیت کا اثر تھا کہ حضرت عبداللہ بن زبیر اپنے وقت کے بہادر اور شجاع انسان ٹھہرے۔آپ کی طبیعت میں سادگی تھی۔مال و دولت کی فراوانی کے باوجود اسراف کی طرف مائل نہیں ہوئے۔البتہ آلات حرب کا بہت شوق تھا۔جو یقیناً جہاد کی محبت کی وجہ سے تھا۔حضرت عثمان کی شہادت کے بعد جو شورش ہوئی اس میں آپ کی رائے بھی قاتلین عثمان سے قصاص کے حق میں تھی۔جبکہ بلوہ کی صورت میں ہونے والی اس شہادت کے قاتلوں کی تعیین اور بار ثبوت اپنی جگہ ایک مسئلہ تھی۔اس اختلاف رائے میں ہی حضرت عائشہ اور حضرت علی کے مابین جنگ جمل میں آمنا سامنا ہوا۔حضرت زبیر اور حضرت طلحہ حضرت عائشہؓ کے ہمراہ تھے۔حضرت علیؓ نے حضرت زبیر سے کہا کہ اگر آپ ہمارا ساتھ نہیں دیتے تو ہمارے خلاف بھی کسی کی مدد نہ کر میں حضرت زبیر نے عرض کیا آپ پسند کرتے ہیں کہ میں آپ کے مقابلہ سے دستبردار ہو جاؤں۔حضرت علیؓ نے کہا کہ میں کیسے نہ پسند کروں گا جبکہ آپ رسول اللہ ﷺ کے پھوپھی زاد ہیں اور دیگر فضائل بیان کئے جس پر زبیر راضی ہو گئے۔(20) پھر حضرت ابن عباس وغیرہ نے بھی توجہ دلائی تو آپ نے رائے بدل لی اور میدان جنگ سے واپس لوٹ آئے اس دوران ایک ظالم نے آپ پر حملہ کر کے شہید کر دیا۔حضرت علی گو اس کی اطلاع