سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 164
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 164 حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کسی شخص کے خون کا پیاسا نہیں ہوا۔“ غزوہ احد میں خالی درے سے کفار کے اچانک حملہ کے نتیجہ میں مسلمانوں کے پاؤں اکھڑ گئے تھے اور وہ تتر بتر ہو گئے مگر حضرت سعد بن ابی وقاص ان معدودے چند صحابہ میں سے تھے جو ثابت قدم رہے۔آپ تیراندازی کے ماہر تھے جب کفار نبی کریم ﷺ کو ہدف بنا کر ہجوم کر کے حملہ آور ہوئے تو آنحضرت اپنے ترکش سے حضرت سعد کو تیر عطا فرماتے اور کہتے ارم یا سَعدُ فِدَاکَ ابی و امی ! یعنی اے سعد تیر چلاؤ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔حضرت علی فرمایا کرتے تھے کہ حضرت سعد ہی وہ سعادت مند ہیں جن کے سوا اور کسی کیلئے میں نے آنحضور سے اس طرح فِدَاكَ اَبِی وَ أُمِّی کا جملہ نہیں سنا۔معلوم ہوتا ہے حضرت علی کی مراد غزوہ احد سے ہوگی ورنہ حضرت طلحہ وزبیر کے بارہ میں بھی نبی کریم نے بعض اور مواقع پر یہ کلمات استعمال فرمائے۔غزوہ احد ہی کا واقعہ ہے جب ایک مشرک حملہ آور نا پسندیدہ نعرے لگا تا بلند بانگ دعاوی اور تعلی کرتا ہوا آگے بڑھ رہا تھا۔نبی کریم ﷺ نے اس سے نبٹنے کا اشارہ فرمایا۔حضرت سعد کا ترکش تیروں سے خالی تھا آپ نے تعمیل ارشاد کی خاطر زمین پر سے ایک بے پھل کا تیر اٹھایا اور تاک کر اس مشرک کا نشانہ لیا۔تیرعین اس کی پیشانی میں اس زور سے لگا کہ وہ بدحواسی میں بر ہنہ ہوکر وہیں ڈھیر ہو گیا۔چند لمحے قبل اس کی تعلیوں کے مقابل پر قدرت خداوندی سے اس کا یہ انجام دیکھ کر اور اس کے شر سے محفوظ ہو کر نبی کریم خوش ہو کر مسکرانے لگے۔احد میں دشمن اسلام طلحہ بن ابی طلحہ بھی حضرت سعد کے تیر کا نشانہ بنا۔ابو عثمان بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہونے والی بعض جنگوں میں آپ کے ساتھ بعض مواقع پر حضرت طلحہ اور حضرت سعد کے سوا کوئی بھی موجود نہیں رہ سکا تھا۔اس کے بعد حضرت سعد فتح مکہ ، حنین اور تبوک کے غزوات میں رسول اللہ ﷺ کے ہمرکاب رہے اور انہیں اپنی بہادری کے جو ہر کھل کر دکھانے کا موقع ملتا رہا۔ایک دفعہ رسول کریم ﷺ نے حضرت سعد گودشمن کی خبر لانے کیلئے بھجوایا وہ دوڑتے ہوئے گئے اور واپس آہستہ چلتے ہوئے آئے رسول کریم نے وجہ دریافت کی تو حضرت سعد نے عرض کیا کہ واپسی پر میں اس لئے نہیں بھا گا کہ دشمن یہ نہ سمجھے