سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 163 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 163

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 163 حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھجوائی گئی ساٹھ افراد پر مشتمل مہم میں بھی آپ شریک تھے۔اس موقع دشمن نے تیر برسائے۔حضرت سعد کو بھی اپنی تیراندازی کے جوہر دکھانے کا موقع ملا۔فرمایا کرتے تھے کہ میں پہلا عرب شخص ہوں جس نے اللہ کی راہ میں تیر چلایا۔غزوہ بدر سے قبل رسول کریم ﷺ نے حضرت سعد کو میں سواروں پر مشتمل ایک دستہ پر نگران مقرر کر کے خرار مقام پر بھجوایا۔آپ کا مقصد قریش کے تجارتی قافلہ کا راستہ روکنا تھا۔اس تجارتی قافلہ کا سارا منافع مسلمانوں کے خلاف خرچ کرنے کے عہد و پیمان تھے۔(7) غزوات میں شرکت اور بہادری کفر و اسلام کے پہلے معرکہ بدر میں حضرت سعد گورسول اللہ علیہ کے ساتھ شرکت کی تو فیق ملی۔وہ بیان کرتے تھے میں بدر میں شامل ہوا تو میرے چہرے میں ایک بال کے سوا کچھ نہ تھا۔(یعنی اس وقت حضرت سعد کی صرف ایک بیٹی تھی) اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے مجھے گھنی داڑھی جیسے بال عطا کئے (یعنی کثرت سے اولاد سے نوازا)۔(8) حضرت سعد کو بجاطور پر بدر میں شرکت پر فخر تھا۔ان کے بیٹے عامر کہا کرتے تھے کہ حضرت سعد مہاجرین میں سے فوت ہونے والے آخری صحابی تھے۔وفات کے وقت انہوں نے اپنا نہایت بوسیدہ اونی جبہ منگوایا اور فرمایا ” مجھے اس میں کفن دینا کہ بدر کے دن مشرکوں سے مٹھ بھیڑ کے وقت میں نے یہی جبہ پہن رکھا تھا اور اس مقصد کیلئے آج تک سنبھال کے رکھا ہوا تھا۔‘ (9) حضرت سعد نے غزوہ بدر میں شجاعت و بہادری کے شاندار جو ہر دکھائے۔سردار قریش سعید بن العاص آپ کے ہاتھوں انجام کو پہنچا، اس کی تلوار ذوالکفہ آپ کو بہت پسند آئی ابھی تقسیم غنیمت کا کوئی حکم نہ اترا تھا اس لئے رسول اللہ ﷺ نے وہ تلوار آپ سے واپس لے لی۔پھر جب سورۃ انفال کی آیات نازل ہوئیں تو آپ نے حضرت سعد کو بلا کر وہ تلوار عطا فرمائی۔حضرت سعد نے احد میں رسول اللہ علیہ کی حفاظت میں آپ کے آگے پیچھے اور دائیں بائیں لڑنے کی سعادت پائی۔ان کا بھائی عتبہ حالت کفر میں میدان احد میں مدمقابل تھا اس نے رسول اللہ اللہ کو زخمی کیا تھا۔حضرت سعد کی غیرت ایمانی کا یہ حال تھا کہ فرمایا کرتے ” میں عقبہ سے زیادہ