سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 137
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 137 حضرت ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ نجران روانہ فرمایا اور حضرت ابو عبیدہ نے یہاں بھی خوب امانت کا حق ادا کرنے کی توفیق پائی۔انتخاب خلافت اولی 10 ہجری میں حضرت ابو عبیدہ حجتہ الوداع کے سفر میں بھی رسول اللہ ہے کے ہم رکاب تھے۔جس کے بعد ہمارے آقا و مولا نے سفر آخرت اختیار فرمایا۔رسول اللہ ﷺ کی وفات نے مسلمانوں کی زندگی پر ایک زلزلہ برپا کر دیا اپنے آقا کی المناک جدائی کے صدمے سے مغلوب صحابہ رسول بے چین اور بے قرار تھے اور مارے غم کے دیوانے ہوئے جارہے تھے۔چنانچہ سقیفہ بنو ساعدہ میں انصار کے ایک سردار رسول اللہ سے تعلق محبت کی بناء پر انصار میں سے امیر مقرر کئے جانے کا سوال اٹھا رہے تھے۔اس موقع پر جب خلافت ایسی اہم امانت کی سپر د داری کا مسئلہ زیر غور تھا۔بزرگ صحابہ حضرت ابوبکر، حضرت عمرؓ اور ابو عبیدہ نے انصار کو سمجھایا اور ہر ایک نے نہایت عجز اور انکسار سے اپنے بزرگ مہاجر بھائی کا نام پیش کر کے صدق دل سے اپنی بیعت پیش کی۔حضرت ابوبکر نے فرمایا: دیکھو تم میں عمر موجود ہیں، جن کی ذات سے خدا نے دین کو معزز کیا اور تم میں ابو عبیدہ بھی ہیں جن کو امین الامت کا خطاب دیا گیا ان میں سے جس کے ہاتھ پر چاہو، بیعت کر کے اکٹھے ہو جاؤ۔(18) حضرت عمر نے اپنی معذرت پیش کرتے ہوئے ان دونوں بزرگوں کے نام لئے اور حضرت ابو بکر کے طبعی پس و پیش کو دیکھ کر حضرت عمرؓ نے حضرت ابو عبیدہ سے یہاں تک کہا کہ ابو عبیدہ آپ بیعت لینے کے لئے ہاتھ بڑھا ئیں۔میں نے نبی کریم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ آپ اس امت کے امین ہیں۔اس پر ابو عبیدہ نے اپنی رائے کا حق امانت یوں ادا کیا کہ ' مجھے ہرگز ایسے شخص پر تقدم روا نہیں جنہیں آنحضرت ﷺ نے اپنی آخری بیماری میں ہمارا امام مقررفرمایا اور حضور ہی وفات تک انہوں نے ہمیں امامت کروائی۔“ (19) پھر انصار صحابہ کو کیسی عمدگی سے سمجھاتے ہوئے فرمایا کہ دیکھو اے انصار! تم رسول اللہ کی نصرت کرنے والے اولین لوگ تھے۔آج اس کو سب سے پہلے بدلنے والے نہ بن جانا۔“ (20) الغرض خلافت اولیٰ کے انتخاب کے اہم اور نازک مرحلے پر بھی امین الامت حضرت ابو عبیدہ