سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 136
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 136 حضرت ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ ان کے صدق و امانت میں اللہ تعالیٰ نے ایسی برکت ڈالی کہ وہ بحرین سے ڈھیروں ڈھیر مال لے کر مدینہ آئے۔انصار مدینہ کو خبر ہوئی تو وہ اگلے روز فجر کی نماز میں کثیر تعداد میں حاضر ہوئے۔نماز فجر کے بعد نبی کریم نے صحابہ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ ” معلوم ہوتا ہے تم لوگوں کو ابوعبیدہ کے آنے کی اطلاع ہو گئی ہے۔سو تمہیں بشارت ہو کہ تمہاری مرادیں پوری ہوں گی۔مگر یاد رکھو! مجھے تمہارے فقر و افلاس کا اندیشہ نہیں بلکہ دنیا تمہارے لئے اس طرح فراخ کر دی جائے گی۔جس طرح پہلی قوموں کے لئے کی گئی۔لیکن اس کے نتیجے میں بالآخر وہ ہلاک ہو گئے۔مجھے ڈر یہ ہے کہ کہیں تمہارا بھی وہ حال نہ ہو۔‘ (16) امین الامت نجران میں اموال بحرین کی امانتوں کا حق ادا کرنے کے بعد حضرت ابو عبیدہ کو نجران میں مالی امور کا امین بنایا گیا۔چنانچہ 9 ہجری میں جب نجران کا اعلیٰ سطحی وفد (جو حکومتی اور مذہبی نمائندوں پر مشتمل تھا) مدینہ آیا اور اہل نجران سے ان شرائط پر صلح ہوئی کہ 1 - دو ہزار حلے (چادریں) وہ سالانہ دیا کریں گے ہر حلہ ایک اوقیہ مالیت کا ہوگا اور اوقیہ کا وزن چالیس درہم ہو گا۔-2- جو ملے ایک اوقیہ سے زیادہ قیمت کے ہوں گے ان کی قیمت کی زیادتی حلوں کی تعداد کی کمی سے اور جو کم قیمت ہوں گے ان کی قیمت کی کمی حلوں کی تعداد کی زیادتی سے پوری کرائی جائے گی۔3- اگر حلوں کی مالیت کے برابر اسلحہ گھوڑے یا دیگر سامان دینا چاہیں تو قبول کر لیا جائے گا۔‘ (17) اب ظاہر ہے ان شرائط پر عمل درآمد کروانا بھی ایک امانت دار شخص کا تقاضا کرتا تھا اور یہی سوال اہل نجران نے اٹھایا کہ اس معاہدے کی تعمیل کے لئے اپنا انتہائی امین شخص ہمارے ساتھ بھجوائیں۔اس پر نبی کریم نے حضرت ابوعبیدہ کو امین الامت کا خطاب دے کر اس وفد کے ساتھ