سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 106
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 106 حضرت علی رضی اللہ عنہ غزوہ بدر میں شرکت اور بہادری بدر کا معرکہ پیش آیا تو رسول اکرم ۳۱۳ جاں نثاروں کے ساتھ مدینہ سے نکلے آگے آگے دو علم تھے۔ایک جھنڈا حضرت علی کے ہاتھ میں تھا۔(12) بدر کے قریب پہنچے تو رسول اکرم ﷺ نے حضرت علی کی سرکردگی میں ایک دستہ دشمن کی نقل و حرکت معلوم کرنے کے لئے روانہ فرمایا۔انہوں نے نہایت حکمت عملی کے ساتھ یہ خدمت سر انجام دی۔۷ ارمضان المبارک کو مسلمان اور کفار میدان بدر میں آمنے سامنے ہوئے۔سردارانِ قریش نے مبارزت طلب کی پہلے تین انصاری مقابلے کے لئے نکلے۔قریش نے مطالبہ کیا کہ ہمارے ہم پلہ قبیلہ قریش کے مردوں کو مد مقابل لایا جائے۔تب رسول اللہ علیہ نے فرمایا کھڑے ہو جاؤ اے حمزہ اور اے علی تم مقابلہ پر نکلو۔“ الله حضرت علی سفید پچکے میں نمایاں تھے۔ارشاد رسول کی تعمیل میں یہ سر بکف جوان میدان میں اتر کر اپنے شکار پر جھپٹا۔اپنے حریف ولید کا ایک ہی وار میں خاتمہ کر دیا پھر عبیدہ کی مددکو بڑھے اور ان کے حریف شیبہ کو بھی ختم کر کے دم لیا۔جب مشرکین نے اپنے سرداروں کو یوں قتل ہوتے دیکھا تو مسلمانوں پر عام حملہ کر دیا۔اس موقع پر شیر خدا حضرت علیؓ نے خوب بہادری کے جوہر دکھائے اور دشمنوں کی صفوں کی صفیں الٹ کر رکھ دیں۔روایت ہے کہ حضرت علی بہادر سورما کی طرح دشمن کی صفوں پر ٹوٹے پڑتے تھے اور کہتے جاتے تھے کہ اب یہ واپس مکہ جا کر وہاں کی کھجور میں کبھی نہ کھائیں گے۔سرولیم میور نے حضرت علی کی اس بہادرانہ شان کو یوں خراج تحسین پیش کیا ہے کہ ” میدان بدر میں علی اپنے لمبے اور سرخ پھر میرے کے ساتھ اور زبیر اپنی شوخ رنگ کی چمکتی ہوئی زرد پگڑی کے ساتھ بہادران الیڈ کی طرح جہاں بھی جاتے تھے۔دشمن کے واسطے گویا موت و پریشانی کا سامان ساتھ لے جاتے تھے۔یہ وہ نظارے تھے جہاں بعد کی اسلامی فتوحات کے ہیرو تربیت پذیر ہوئے۔‘ (13) حضرت فاطمہ سے شادی ۲ ہجری میں حضرت علی نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حضرت فاطمہ سے عقد کی