سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 105 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 105

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 105 حضرت علی رضی اللہ عنہ سے نکل جانے کا کہا اور وہ چلے گئے تب کہیں آپ کی جان چھوٹی۔(9) حضرت علی کا بائیس سال کی عمر میں رسول کریم ﷺ کی خاطر اپنی جان کو یوں خطرے میں ڈالنا ان کے اخلاص و فدائیت کو خوب ظاہر کرتا ہے۔انہیں بجاطور پر حفاظت و خدمت رسول کی اپنی اس سعادت پر فخر تھا اپنے منظوم عربی کلام میں کیا خوب فرماتے ہیں:۔وَقَيْتُ بِنَفْسِي خَيْرَمَنُ وَطِئَ الحَصَا وَمَن طاق بالبَيتِ العَتِيقِ وَبِالحَجَر وَبَاتَ رَسُولُ اللَّهِ فِي الغَارِ آمِنًا مُوقى وَفِي حِفظ الالهِ وَفِي سِتر وَبِتُ أَرَاعِيهِم وَلَم يَتِهِـمُـونِـــى وَقَد وَطَّنتُ نَفْسِى عَلَى القَتْلِ وَالأَسرِ یعنی میں نے اپنی جان فدا کر کے وادی بطح پر قدم رنجا فرمانیوالی بہترین ہستی کی حفاظت کی۔ہاں اس وجود کی جو بیت اللہ اور حجر کا طواف کیا کرتا تھا۔خدا کے رسول نے غار ( ثور) میں بے خوف کفار سے بیچ کر اللہ کی حفاظت وامان میں رات بسر کی۔اور میں نے دشمن کی نگرانی کرتے ہوئے رات گزار دی اس طرح ( نڈر ہوکر ) کہ وہ مجھ پر کوئی تہمت نہیں لگا سکے۔دراں حالیکہ میں نے اپنے آپ کو قتل اور قید کے لئے تیار کر لیا تھا۔رسول اللہ ﷺ کے ارشاد کے مطابق حضرت علی دو تین روز کے بعد اہل مکہ کی امانتیں لوٹا کر ہجرت کر کے مدینہ آئے اور نبی کریم کے ساتھ فروکش ہوئے۔سفر ہجرت میں بھی بہت تکلیف اٹھائی راتوں کو سفر کرتے اور دن چھپ کر گزارتے ، پیدل چلنے سے پاؤں زخمی ہو گئے مدینہ پہنچے تو رسول اللہ اللہ انہیں دیکھ کر رو پڑے اور گلے لگالیا۔(10) رسول کریم ﷺ نے مکہ میں مہاجرین کے درمیان مواخات قائم کرتے ہوئے اور پھر ہجرت کے بعد مدینہ میں مواخات کے موقع پر حضرت علی کو اپنا بھائی اور ساتھی قرار دیتے ہوئے فرمایا تم دنیا اور آخرت میں میرے بھائی ہو۔(11)