سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page ix
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم بسم الله الرحمن الرحيم پیش لفظ (طبع اوّل) ہزاروں ہزاروں درود اور سلام ہوں اس محسنِ انسانیت پر جس نے اپنی تعلیم و تربیت فیض صحبت اور دعاؤں سے عرب کی بادیہ نشین وحشی قوم میں ایسا انقلاب برپا کیا کہ وہ نہ صرف انسان بلکه با اخلاق اور با خدا انسان بن گئے۔آپ نے انہیں گوبر کی طرح ذلیل قوم پایا مگر خالص سونے کی ڈلی کی طرح روشن اور چمکدار بنا دیا، بھیڑ بکریوں اور اونٹوں کے چرواہوں کو تخت شاہی پہ بٹھایا تو غلاموں کو بادشاہ بنا دیا ، ایک ان پڑھ اور امی قوم کو دنیا کا استاد ، معلم اور خدا نما وجود بنادیا۔الغرض انہیں فرش سے اٹھایا اور عرش کے تارے بنادیا۔کہتے ہیں یورپ کے ناداں یہ نبی کامل نہیں وحشیوں میں دیں کا پھیلانا یہ کیا مشکل تھا کام پر بنانا آدمی وحشی کو ہے اک معجزہ معنی راز نبوت ہے اسی سے آشکار عرب کے وہ بادیہ نشین صحبت رسول میں ایسے باکمال انسان بن گئے کہ اپنے مال جان عزتیں اور وطن سب کچھ خدا اور اسکے رسول کے لئے قربان کر دیئے تبھی تو ہمارے آقا و مولا حضرت محمد ﷺ نے اپنے تربیت یافتہ غلاموں کو یہ سند عطا فرمائی کہ اصحابی کالنجوم میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں۔ان میں سے جس کی پیروی کرو گے ہدایت پاؤ گے اور بلاشبہ اپنے علم و عمل ، صحبت صالحہ اور پاک نمونہ سے اصحاب رسول بہتوں کی ہدایت کا موجب بنے اور آج بھی ان کے پاکیزہ نمونے ہمارے لئے مشعل راہ ہیں۔اسی نقطہ نظر سے راقم الحروف نے مختلف اوقات میں صحابہ رسول کی سیرت و سوانح پر جو نقار بر بامضامین لکھے اور ان میں سے بعض اخبارات ورسائل میں بھی شائع ہوئے ،افادہ عام