سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 64 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 64

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 64 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ہمیشہ مجھ سے نیکیوں کی دوڑ میں سبقت لے جاتے ہیں۔آج میں خدا تعالیٰ کی راہ میں مال قربان کرنے میں انہیں بڑھنے نہیں دوں گا۔اس جذبہ کے ساتھ اپنا نصف اثاثہ آنحضور کی خدمت میں لا کر پیش کر دیا۔آنحضرت نے پوچھا کہ عمر کیا لائے ہو ؟ عرض کیا یا رسول اللہ میں اپنا نصف مال آپ کی خدمت میں لے آیا ہوں۔تھوڑی دیر میں حضرت ابو بکر تشریف لائے پوچھا کیا لائے ہو؟ عرض کیا جو کچھ گھر میں تھالا کر حضور کے قدموں میں ڈھیر کر دیا ہے۔گھر میں اللہ اور رسول کا نام چھوڑ آیا ہوں۔حضرت عمرؓ کہتے ہیں میں نے اس روز سوچ لیا کہ یہ بوڑھا مجھے کبھی آگے نہیں بڑھنے دے گا۔(54) حضرت اسلم بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت عمرؓ کے ساتھ بازار گیا۔ایک نو جوان عورت ان سے ملی اور عرض کیا اے امیر المؤمنین! میرا خاوند فوت ہو گیا اور بچے چھوٹے ہیں۔جن کا فاقہ سے برا حال ہے۔نہ ہماری کوئی کھیتی ہے نہ جانور اور مجھے ڈر ہے کہ یہ یتیم بچے بھوک سے ہلاک نہ ہو جائیں۔اور میں ایماء غفاری کی بیٹی خفاف ہوں، میرا باپ حدیبیہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ شامل تھا۔حضرت عمر یہ سن کر اس بی بی کے احترام میں وہیں رک گئے فرمایا ' اتنے قریبی تعلق کا حوالہ دینے پر میں تمہیں خوش آمدید کہتا ہوں۔پھر گھر میں بندھے ایک مضبوط اونٹ پر دو بورے غلے کے بھرے لدوائے۔ان کے درمیان دیگر اخراجات کے لئے رقم اور کپڑے رکھوائے اور اونٹ کی مہار اس خاتون کو تھما کر فرمایا یہ تو لے جاؤ اور انشاء اللہ اس کے ختم ہونے سے پہلے اللہ تعالیٰ آپ کے لئے اور بہتر سامان پیدا فرما دے گا۔“ ادھر جود وسخا کا یہ نظارہ دیکھنے والے حیران تھے۔ایک نے تو کہہ بھی دیا اے امیر المؤمنین ! آپ نے اس عورت کو کچھ زیادہ ہی دے دیا ہے۔حضرت عمرؓ نے فرمایا۔" تیری ماں تجھے کھوئے۔خدا کی قسم! میں نے اس خاتون کے باپ اور بھائی کو دیکھا کہ ایک زمانے تک ہمارے ساتھ انہوں نے محاصرہ کیا پھر فتح کے بعد ہم مال غنیمت کے حصے تقسیم کرنے لگے۔‘ (55) اتباع قرآن حضرت عمرہ کو قرآن سے عشق تھا۔اور انتہائی محبت اور استغراق سے اس کی تلاوت کرتے ایک دفعہ سورہ تکویر کی تلاوت کی جب اس آیت پر پہنچے وَإِذَا الصُّحُفُ نُشِرَت جس کا ایک مطلب یہ