سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 55
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 55 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ طلحہ بن عبد اللہ سعد بن مالک ہونگے۔یہ وہ بزرگ صحابہ ہیں کہ رسول اللہ بوقت وفات ان سے راضی تھے۔اور سنو میں تمہیں حکومت، عدل اور تقسیم مال کے بارے میں اللہ کے تقویٰ کی وصیت کرتا ہوں۔‘“ حضرت عمرؓ نے اس کمیٹی کو جسے آپ نے شوری قرار دیا۔ہدایت فرمائی کہ ” تم باہم مشورہ سے خلیفہ کا انتخاب کرنا۔اگر تین طرف دو دو آراء ہو جائیں تو پھر مجلس شوری ہی فیصلہ کرے گی ورنہ کثرت رائے کے مطابق فیصلہ ہوگا۔اگر دو طرف آراء تین تین ہو جائیں تو عبدالرحمان کی رائے جس طرف ہوگی وہ قبول کرنا۔اس طرح آپ نے گویا حضرت عبد الرحمان کو کمیٹی کا کنو میز مقرر کر کے انہیں حتمی رائے کا حق دیا۔نیز کمیٹی کو تین دن میں فیصلہ کا پابند کیا۔انتخاب خلافت کی درمیانی مدت کے لئے آپ نے حضرت صہیب رومی کو نمازوں کے لئے امام مقررفرمایا۔شوریٰ کے آخری فیصلہ کا انکار یا مخالفت کرنے والے کے لئے سخت احکامات جاری فرمائے۔خلافت کمیٹی کے اراکین قدیم مہاجرین صحابہ تھے۔اس کے اجلاس کو پُر امن اور یقینی بنانے کے لئے مزید یہ اہتمام فرمایا کہ اپنی وفات سے چند لمحے قبل ایک مخلص اور وفاشعار عاشق رسول انصاری صحابی حضرت ابوطلحہ کو جو مدینہ کے سرداروں میں سب سے صاحب اثر وثروت تھے۔پیغام بھجوایا کہ اے ابوطلحہ ! آپ اپنی قوم کے پچاس انصار ساتھیوں کے ساتھ ان اصحاب شوری کے ساتھ حفاظت کی ڈیوٹی دینا اور ان پر تیسرا دن گزرنے نہ دینا یہاں تک کہ وہ ارکان شوری میں سے کسی ایک کو اپنا خلیفہ مقرر کر لیں۔‘ احساس ذمہ داری کا یہ عالم تھا کہ انتظامات کرنے کے بعد پھر حضرت عمرؓ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی اے اللہ ! اب تو ان پر میری طرف سے جانشین اور نگہبان ہو جا۔‘ (28) حضرت عمرؓ نے شوری کمیٹی برائے خلافت میں اپنے بیٹے حضرت عبداللہ بن عمرؓ کو بھی رکن نامزد کیا تھا مگر ساتھ ہدایت فرمائی کہ ان کا نام خلافت کے لئے پیش نہ ہو سکے گا۔پھر فرمایا ” میں اپنے بعد آنے والے خلیفہ کو قدیم ہجرت کرنے والے بزرگ صحابہ کے لئے وصیت کرتا ہوں کہ ان کا حق پہچانیں اور ان کا پورا احترام کریں۔دوسرے انصار کے حق میں وصیت کرتا ہوں۔جن کا قرآن میں ذکر ہے کہ انہوں نے ایمان کو اور مہاجرین کو اپنے پاس جگہ دی کہ ان کے نیک لوگوں کی نیکی قبول کرتے ہوئے ان سے بہتر سلوک کیا جائے اور غلطی کرنے والے سے عفو