سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 515
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 515 حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ صحبت صالحین کے لئے سفر موصل و نصیر وفات کے بعد میں نے موصل آکر اس دوسرے بزرگ سے ملاقات کی اور اسے اپنا سارا حال سنا کر بتایا کہ فلاں بزرگ نے مجھے آپ سے ملاقات کی وصیت کی تھی اور بتایا تھا کہ آپ ان کے نیک مسلک پر ہیں۔انہوں نے کہا کہ ٹھیک ہے آپ میرے پاس رہو۔میں نے انہیں بھی بہترین انسان پایا وہ دن کو روزہ رکھتا اور رات کو عبادت کرتا تھا اور واقعی اپنے ساتھی کے مسلک پر قائم تھا۔تین سال یہاں گزارے اور سرکہ تیل اور کچھ دانوں پر گز راوقات ہوتی رہی پھر ان کو بھی خدا کے حضور سے بلاوا آ گیا تو میں نے عرض کیا کہ فلاں بزرگ نے مجھے آپ کے پاس بھجوایا تھا۔اب آپ مجھے کیا وصیت کرتے ہیں۔انہوں نے کہا خدا کی قسم ! مجھے اہل مشرق میں کسی ایسے شخص کا علم نہیں جو ہمارے مسلک پر ہوا سوائے نصیبین میں ایک شخص کے اور وہ فلاں بزرگ ہے۔تم اسے جا کر ملوا سے میرا سلام کہنا۔چنانچہ ان کی وفات کے بعد میں نصیبین کے بزرگ کے پاس چلا گیا اور اسے اپنے حالات سے آگاہ کر کے بتایا کہ فلاں بزرگ نے مجھے آپ سے ملاقات کیلئے فرمایا تھا۔انہوں نے بھی مجھے اپنے پاس ٹھہرایا۔انہیں بھی میں نے پہلے دونوں بزرگوں جیسا ہی پایا۔میں نے اس بہترین شخص کے ساتھ زندگی کے تین سال اور گزارے۔بالآخر اسے بھی موت نے آن لیا۔عموریہ کا سفر اور نبی موعود کی علامتیں بوقت وفات ان سے بھی میں نے وہی سوال کیا کہ مجھے کیا وصیت کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ خدا کی قسم ! ہمیں معلوم نہیں کہ اب کوئی شخص روئے زمین پر ہمارے مسلک پر ایسا باقی رہ گیا ہے جس کے پاس تم جاؤ۔ہاں عمور یہ میں ایک شخص ایسا ہے جو ہمارے جیسا ہے۔اگر تم پسند کرو تو وہاں چلے جاؤ۔ان کی وفات کے بعد میں عموریہ کے بزرگ کے پاس گیا۔انہیں اپنے حالات سے مطلع کیا۔انہوں نے کہا کہ میرے پاس ٹھہر جاؤ میں نے اسے بھی اپنے ساتھیوں کے مسلک اور نیک اخلاق پر پایا۔اس دوران میں نے محنت کر کے مال بھی کمایا اور کچھ گائیں بکریاں جمع کر لیں۔پھر انکی وفات کا وقت آیا تو ان سے پوچھا کہ اب آپ مجھے کوئی وصیت کریں۔انہوں نے کہا خدا کی قسم ! مجھے روئے