سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 486 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 486

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 486 حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ جو حصہ بنتا تھا وہ انہیں الگ عطا فرمایا۔کہتے ہیں کہ میں حضور کی شفقتوں پر حیران اور خوشی سے پھولے نہ سما تا تھا۔راستہ میں مجھے ایک یہودی ملا۔میں نے اس یہودی کو خوشی میں یہ سارا قصہ کہہ سنایا کہ میرے ساتھ خوب ہوئی۔آنحضور ﷺ کو اونٹ بیچا تھا آپ نے پیسے بھی واپس کر دیے اور اونٹ بھی۔وہ یہودی مجھے تعجب اور حیرت سے کہتا تھا کہ اچھا واقعی یہ اونٹ تم سے خریدا تھا پھر اونٹ بھی تمہارے حوالے کر دیا ہے اور قیمت بھی واپس کر دی۔(9) حضرت جابر بیان کرتے تھے کہ یہی شفقتیں عمر بھر میں نے آنحضرت ﷺ سے دیکھی ہیں۔اسی اونٹ کے واقعہ والی رات آنحضور ﷺ نے پچیس مرتبہ میرے لیے استغفار کیا اور اللہ سے بخشش چاہی (10) حضرت جابر نے 94 سال لمبی عمر پائی۔خلافت راشدہ کا زمانہ بلکہ بعد میں ان امراء کا زمانہ بھی دیکھا جس کے بارے میں حضور نے فرمایا تھا کہ ظالم اور جابر حاکم ہوں گے۔بلکہ حکومتی جبر وتشدد کا کچھ سامنا بھی آپ کو کرنا پڑا لیکن نہایت صبر اور استقامت کے ساتھ وہ زمانہ بھی گزار دیا۔ان کی مہمان نواز بیوی ( جن کا ذکر ہو چکا ہے۔) سہیلہ بنت مسعود تھیں۔ان سے کوئی اولاد نہیں ہوئی۔دوسری اہلیہ ام حارث حضرت محمد بن مسلمہ انصاری قبیلہ اوس کے معزز رئیس کی بیٹی تھیں۔ان سے اولا د عطا ہوئی۔حضرت جابر نے آنحضرت ﷺ سے کثرت سے احادیث سنیں بلکہ جوانی کا زمانہ زیادہ تر آپ کی شفقتوں اور محبتوں کے زیر سایہ سفر و حضر میں گزارا۔چنانچہ حضرت جابڑ کی روایات کی تعداد پانچ سو سے بھی زائد ہے۔آنحضرت ﷺ کی احادیث سنے کا اور علم حاصل کرنے کا شوق بھی خوب تھا۔چنانچہ آپ نے ملک شام اور مصر کے بعض طویل سفر محض حصول علم کی خاطر کیے اور وہاں جا کر احادیث سن کر پھر آگے بیان کیں۔مسجد نبوی میں آپ کا حلقہ درس تھا جس میں لوگ آپ سے علم حدیث حاصل کرتے۔(11) آنحضرت علیہ کے احسانوں اور شفقتوں کا یہ عالم تھا کہ جابڑ ایک دفعہ بیمار ہوئے آنحضور ﷺ ان کی بیمار پرسی کے لئے تشریف لے گئے۔جابر نے عرض کیا یا رسول اللہ میری اولاد کوئی نہیں صرف بہنیں ہیں۔میں کلالہ کی حالت میں مر رہا ہوں اور وصیت کرنا چاہتا ہوں