سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 485 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 485

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 485 سکتے ہو بے شک وہاں پہنچ کر یہ میرے حوالے کر دینا۔حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ حضرت جابر کہتے ہیں کہ صرار مقام پر میں نے حضور سے لشکر سے قبل مدینہ چلے جانے کی اجازت چاہی تو فرمایا کہ رات تک انتظار کرلوتا کہ عورتیں گھروں میں تیاری کر لیں۔نیز آپ نے جابر کو اولاد کے حصول کی سعی کے لئے کمال حکمت سے توجہ دلائی۔جابر کہتے ہیں کہ میں مدینہ پہنچا تو اپنے ماموں کو بتایا کہ میرا اونٹ اڑیل ہو گیا تھا لہذا اسے بیچ دیا۔چونکہ وہ گھر کا پانی ڈھونے والا اونٹ تھا اسلئے ماموں بھی ناراض ہوئے۔مدینہ پہنچ کر میں نے کہا کہ اچھا اب یہ اونٹ بھی حضور کے حوالے کرنا ہے میں مسجد نبوی گیا۔جب جابر وہ اونٹ لے کر مسجد نبوی پہنچے تو آپ نے فرمایا اے جابر تم نے سفر سے آکر دور کعت نفل پڑھے ہیں یہ حضور کی سنت تھی۔جاڑا کو بھی اس کی نصیحت کی۔چنانچہ انہوں نے دو رکعتیں ادا کیں۔پھر رسول اللہ ﷺ نے اپنے خزانچی بلال کو بلا کر فرمایا ایک اوقیہ کی رقم میں نے جابز کو دینی ہے وہ اسے ادا کر دو۔اور ایک اوقیہ سے زائد اس کو وزن کر دینا اور خود حضور اونٹ کے اردگرد چکر لگانے لگے اسے دیکھ کر فرماتے ”واہ بھئی واہ! کیا عمدہ اونٹ ہم نے جابر سے خریدا ہے۔خوب! عمدہ اونٹ ہے۔بہت ہی اچھا بھئی! کیا خوب اونٹ ہے جو ہم نے صرف ایک اوقیہ میں جابر سے خرید لیا۔“ جاب کہتے ہیں کہ میں بلال کے ساتھ گیا انہوں نے مجھے نہ صرف ایک اوقیہ دیا بلکہ حضور کے ارشاد کے مطابق ایک قیراط زائد بھی دے دیا۔میں نے دل میں سوچا کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے جو زائد قیراط دیا ہے اس کو کبھی خرچ نہیں کروں گا۔اسے میں بچا کے رکھتارہا اور ایک زمانے تک اس کو سنبھال کے اس کی بہت برکتیں بھی حاصل کیں۔بعد میں واقعہ تر 640ھ میں مدینہ پر حملہ کے دوران وہ قیراط کہیں ضائع ہو گیا۔گویا جاب نے قریب نصف صدی سے زائد عرصہ وہ قیراط سنبھال کے رکھا۔جب میں نے حضور کے پاس آکر عرض کیا یا رسول اللہ ﷺے اب یہ آپ کا اونٹ ہے اور رقم میں نے بلال سے وصول پالی ہے۔یہ کہ کر میں جانے لگا تو آنحضور نے مجھے آواز دیکر واپس بلایا ادھر آؤ مجھے ڈرلگا کہ کہیں یہ اب اپنا سودا واپس تو نہیں کرنے لگے۔آپ نے مجھے بلا کر کہا کہ جابر! میں ایسا ہر گز نہیں ہوں کہ تمہارے اونٹ پر قبضہ کرلوں۔جاؤ اپنا اونٹ بھی لے جاؤ اور قیمت بھی لے جاؤ۔یہ دونوں چیزیں تمہاری ہوئیں ہماری طرف سے تحفہ اور اس غزوہ میں باقی لوگوں کے ساتھ جابر کا مال غنیمت میں