سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 483
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 483 حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ حضور سے اونٹ کا سودا اور قبولیت دعا اس سفر سے واپسی کے موقع پر حضور کی محبت اور شفقت کا ایک اور بہت ہی عجیب واقعہ حضرت جاب کے ساتھ گزرا جسے حضرت جابڑ ایک خاص محبت بھرے انداز سے یوں بیان کیا کرتے تھے کہ غزوہ ذات الرقاع سے واپسی پر میرا سواری کا اونٹ جو پانی ڈھونے والا تھا اڑ گیا اور دیگر سواریوں کا ساتھ دینے سے رک گیا ایسا اڑیل ہوا کہ اپنی جگہ سے ہلتا نہیں تھا۔حضرت جابر کہتے کہ میں دل ہی دل میں سخت اظہار افسوس اور ندامت کر رہا تھا اور میرے منہ سے یہ فقرہ نکل گیا کہ وائے افسوس! یہ ایسی سواری ملی ہے کہ میں لشکر میں سب سے پیچھے رہ گیا ہوں اور نہیں معلوم کہ اب یہ اونٹ چلتا بھی ہے کہ نہیں چلتا اور میرا کیا بنے گا، لوگوں سے پیچھے رہ جاؤں گا۔آنحضرت ﷺ جو پیچھے تشریف لا رہے تھے ، آپ نے جابڑ کے افسوس بھرے کلمات سن لیے اور محبت سے فرمایا جا بڑ کیا بات ہے؟ کیا اظہار افسوس کر رہے تھے ، جابڑ کہتے ہیں کہ میں نے تو اپنی ایک خاص کیفیت میں وہ فقرے کہے تھے ، جو مجھے لفظ یا دبھی نہ رہے تھے۔میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! میرے اونٹ کا یہ حال ہے اور اس کی وجہ سے پریشان ہو کر میں اظہار افسوس کر رہا تھا۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اچھا ! اونٹ کو روک کر بٹھاؤ اور درخت سے اس کیلئے ایک چھڑی بناؤ۔پھر حضور نے وہ چھڑی ہاتھ میں لی ، جابڑ کو اونٹ پر سوار کروا کے فرمایا کہ اب اس کی مہار کو مضبوطی سے تھام لو، جا بڑ بڑی مضبوطی سے اس پر جم کر بیٹھ گئے اور آنحضرت ﷺ نے پیچھے سے اونٹ کو چھڑی سے ہانکنا شروع کیا ، پہلے تو اونٹ نے اڑی کی اور اپنی جگہ پر یوں زور سے کو دا کہ جابر بیان کرتے ہیں کہ اگر میں اُونٹ کے ساتھ چمٹ نہ گیا ہوتا تو لازماً اس سے نیچے گر پڑتا لیکن اس کے بعد تو اونٹ کے اندر ایسی تیزی آئی اور وہ ایسا دوڑا کہ سب سے آگے وہ بھاگتا تھا جبکہ باقی سواریاں پیچھے رہنے لگیں اور یہ حضور کی توجہ اور دعا کا کمال تھا۔“ اب آنحضرت ﷺ نے جابر کے ساتھ ایک اور دل لگی کی۔آپ اپنے اس خادم کے ساتھ محبت و پیار کا اظہار بھی کرنا چاہتے تھے۔اُسے کچھ انعام واکرام سے بھی نوازنا چاہتے تھے۔مگر جانتے تھے کہ جابر رئیس کا بیٹا اور بڑا غیور ہے یوں کچھ قبول کرنا اور لینا اس کی عزت نفس کے خلاف اور اس پر بوجھ ہوگا۔جابر نے اس موقع پر یہ ذکر بھی کیا یا رسول اللہ میری نئی نئی شادی ہوئی ہے اجازت ہو تو میں قافلے