سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 35 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 35

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 35 حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ جو کسی نبی کے خلیفہ نے نہ کیا تھا۔آپ مستعد رہے جبکہ آپ کے ساتھی سستی ظاہر کرتے تھے۔آپ میدان میں آگئے جبکہ وہ چھپ رہنا چاہتے تھے اور آپ قومی رہے جبکہ وہ ضعف ظاہر کرنے لگے۔اور آپ نے طریقۂ رسول ﷺ کو مضبوط پکڑا جبکہ وہ لوگ ادھر ادھر بھٹکنے لگے۔آپ کی خلافت منافقوں کی ذلت ، کافروں کی ہلاکت ، حاسدوں کی ناگواری اور باغیوں کی ناخوشی کا سبب تھی اور آپ اس وقت امرحق کے اجراء میں قائم ہوئے جبکہ اور لوگوں نے ہمتیں پست کر دی تھیں اور آپ ثابت قدم رہے جبکہ اور لوگوں میں تردد پیدا ہو گیا اور آپ نور الہی کے ساتھ خطرناک راستوں سے گذر گئے جبکہ اور لوگ توقف پذیر ہو گئے۔پھر آپ کو راہ پر دیکھ کر سب نے آپ کی پیروی کی اور سب نے راہ پائی اور آپ آواز میں سب سے پست تھے اور فوقیت میں سب سے برتر۔آپ کلام میں سب سے بہتر تھے۔آپ کی گفتگو سب سے ٹھیک اور آپ کی خاموشی سب سے بڑھی ہوئی ہوتی تھی۔آپ کا قول سب سے بلیغ ہوتا تھا اور آپ کا دل سب سے زیادہ شجاع تھا اور سب سے زیادہ امور ( دینی و دنیوی) کے پہچاننے والے تھے اور عمل کے لحاظ سے سب میں اشرف تھے (اے صدیق) قسم خدا کی آپ دین کے سردار تھے، ابتدا میں بھی جب لوگ دین سے بھاگے تھے اور آخر میں بھی جبکہ لوگ ( دین کی جانب متوجہ ہوئے آپ مسلمانوں کے مہربان باپ تھے۔یہاں تک کہ سب مسلمان آپ کے بال بچے تھے اور جس بار کے اٹھانے سے وہ ضعیف تھے وہ بار آپ نے (اپنے سر پر اٹھالیا اور جو اموران سے فروگزاشت ہوئے تھے آپ نے ان کی نگہداشت کی اور جس کو انہوں نے ضائع کیا آپ نے اس کی حفاظت کی اور جس بات سے وہ جاہل رہے آپ نے اسے جان لیا اور جس وقت وہ (اجراء امور دین میں ) ست ہوئے تو آپ ( ان کاموں میں کمر باندھ کر ) مستعد ہو گئے اور جب وہ لوگ گھبرائے تو آپ نے صبر ( واستقلال) سے کام لیا۔پس ان کے مطالب کے قصور کو معلوم کر لیا اور آپ کی رائے سے اپنے مقاصد کی طرف راہ یاب ہوئے تو انہوں نے اپنی مراد کو پایا اور آپ کے سبب سے (ان مدارج علیا کو ) پہنچے کہ جس کا انہیں گمان ہی نہ تھا (اے ابو بکر ) آپ کافروں پر ( تو ) عذاب آسمانی اور (غضب الہی کی) آگ تھے اور ایمانداروں کیلئے (خدا کی ) رحمت اور انس اور ( ایک مضبوط ) قلعہ تھے پس ( ان محامد و کمالات کے سبب ) آپ اس خلافت ( کے دریا) میں داخل ہوئے اور انتہا تک